لاہور (خبر نگار) لاہور کے تین اہم ادارے ایل ڈی اے‘ واسا اور ٹیپا کا سالانہ بجٹ برائے سال 2009-10ء کی منظوری کے بغیر صرف پنجاب حکومت کی آشیرباد سے غیرقانونی طور پر کام کر رہے ہیں۔ کروڑوں روپے کے اخراجات کسی ’’قانونی‘‘ مالی منظوری کے بغیر صرف حکومتی پشت پناہی سے دھڑلے سے کئے جا رہے ہیں۔حتیٰ کہ پری آڈٹ کے لئے تعینات محکمہ لوکل فنڈ آڈٹ کا ریذیڈنٹ آڈیٹر بھی خاموش ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایل ڈی اے اور اس کے ماتحت ادارے ٹیپا اور واسا کے بجٹ نئے بلدیاتی قوانین کے تحت ایل ڈی اے اتھارٹی کے اجلاس میں پیش کئے جاتے ہیں۔ اتھارٹی کا سربراہ ضلع ناظم لاہور اور 9 ٹائون ناظمین اس کے ممبر ہیں۔ اتھارٹی کی منظوری کے بعد ضلع کونسل لاہور کے اجلاس میں بجٹ کی منظوری دی جاتی ہے۔ جولائی 2008ء میں اتھارٹی اور پھر ضلع کونسل نے ایل ڈی اے‘ ٹیپا اور پھر ضلع کونسل نے ایل ڈی اے‘ ٹیپا اور واسا کا 13 ارب 85 کروڑ کا بجٹ منظور کیا تھا جس میں 7 ارب 50 کروڑ کا ایل ڈی اے‘ 4 ارب 50 کروڑ کا واسا اور ایک ارب 85 کروڑ کا ٹیپا کا بجٹ تھا۔ اس سال ان اداروں کا بجٹ 15 ارب اور اس سے زائد ہونے کا امکان تھا مگر پنجاب حکومت نے ایل ڈی اے‘ واسا اور ٹیپا کے بجٹ ایل ڈی اے اتھارٹی میں پیش ہونے سے روک دیئے۔ باخبر ذرائع کے مطابق سابق ڈی جی ایل ڈی اے شاہد محمود کی تبدیلی کی ایک اہم وجہ یہ بھی تھی کہ انہوں نے اتھارٹی کا اجلاس بلانے کیلئے ایک چٹھی لکھی تھی تاکہ تینوں اداروں کے اخراجات ’’قانونی‘‘ کروائے جا سکیں۔ ذرائع کے مطابق بعد ازاں موجودہ ڈی جی ایل ڈی اے نے چیئرمین ایل ڈی اے میاں عامر محمود کو چٹھی بھیجی کہ ضروری اخراجات کی اجازت دیدی جائے جس پر انہوں نے جواب دیا کہ ضروری اخراجات کی اجازت کی بجائے بجٹ بھجوا دیں۔ اتھارٹی کا اجلاس بلا کر اسے زیرغور لے آئیں گے۔ بعدازاں چیئرمین ایل ڈی اے میاں عامر محمود نے ایک مزید لیٹر بھجوایا کہ بجٹ پاس نہیں ہوا ہے لہٰذا بجٹ بھیجا جائے جس پر میاں عامر محمود کی طرف سے چٹھی لکھنے والے افسر کے خلاف کارروائی کے لئے کہا گیا ہے۔ بجٹ ماہرین کے مطابق گزشتہ 5 ماہ میں خرچ ہونے والا ایک ارب سے زائد کا ایل ڈی اے‘ واسا اور ٹیپا کا تمام پیسہ غیرقانونی طور پر خرچ کیا گیا ہے جس پر کسی بھی وقت گرفت ہو سکتی ہے۔
Post New Comment