امریکی سینٹ میں ایران کو پٹرولیم مصنوعات کی برآمد پر پابندی کا بل منظور

ـ 30 جنوری ، 2010
  • Adjust Font Size

واشنگٹن (نیوز ایجنسیاں) امریکی سینٹ نے صدر بارک اوباما کو ایران پر نئی پابندی لگانے کا اختیار دے دیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق نئی پابندیوں کا سامنا ان کمپنیوں کو کرنا پڑے گا جو ایران کو صاف تیل فراہم کرتی ہیں اور ان پابندیوں سے ملک کے ذرائع موصلات پر براہ راست اثر پڑے گا۔ایران تیل پیدا کرنے والا ایک بڑا ملک ہونے کے باوجود اپنی ضروریات کے لیے چالیس فیصد صاف تیل درآمد کرتا ہے۔سینٹ کی طرف سے منظور کردہ بل سے صدر کو یہ اختیار بھی حاصل ہو جائے گا کہ وہ ایران کی طرف سے اپنے تیل صاف کرنے والے کارخانوں کے لیے پیسہ اور دیگر امداد حاصل کرنے کی کوششوں کو بھی روک سکیں گے۔سینٹ کی طرف سے پاس کردہ اس بل کا مقصد تہران پر دباو¿ بڑھانا ہے کہ وہ اپنا جوہری پروگرام ترک کر دے۔اس بل کی ڈیمو کریٹک اور ری پبلیکن پارٹیوں کے اکان نے متفقہ طور پر منظوری دی۔ اکثریتی جماعت ری پبلیکن کے سربراہ مچ میکنل نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی حکومت نے اب تک اپنا ایٹمی پروگرام ختم کرنے کے بارے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی بلکہ وہ ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے اپنے مقصد کے حصول کے قریب تر ہو گیا ہے۔ بعض ارکان نے اس بات پر شدید مایوسی کا اظہار کیا کہ بعض ممالک خصوصاً چین ایران کے ساتھ اپنے تھارتی مفادات کو توسیع دے رہے ہیں۔ اب یہ بل منظوری کیلئے ایوان نمائندگان میں پیش کیا جائے گا۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions