کابل، خوست (اے ایف پی، ثناءنیوز) افغانستان کے صوبہ خوست میں فوجی وردیوں میں ملبوس طالبان نے 2 امریکی اڈوں سالرنو اور جیپ مین پر حملے کرکے 18 امریکی فوجیوں کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کر دیا۔ جوابی کارروائی میں فضائی حملے میں 24 طالبان شہید کر دیا گیا 7 کو خودکش جیکٹس سمیت گرفتار کر لیا گیا۔ ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ مذکورہ اڈوں پر حملوں کے لئے 28 خودکش بمبار بھیجے گئے۔ طالبان نے حملوں کے دوران امریکی بیس پر راکٹ داغے اور فائرنگ کی۔ طالبان نے ایک امریکی بیس کے قریب ایک سکول پر بھی قبضہ کیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق پولیس نے اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد سے بھرے دو ٹرک قبضے میں لے لئے۔ فوجی حکام کے مطابق حملے کو پسپا کرنے کے لئے فضائیہ کی مدد بھی حاصل کی گئی اور سالرنو اڈے پر پندرہ اور کیمپ جیپ مین پر 9 طالبان کو شہید کر دیا گیا۔ کابل میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے ایسے گوریلا حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایک مقامی آدمی عامر شاہ نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ”میرے گھر کے قریب سے گولیوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ طالبان میرے گھر میں داخل ہو رہے ہیں“ خیال رہے کہ کیمپ جیپ مین پر ہی گذشتہ سال دسمبر میں ایک حملے میں سی آئی اے کے سات اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ حملہ امریکی انٹیلی جنس پر 1983ءمیں بیروت میں واقع امریکی سفارتخانے پر ہونے والے حملے کے بعد سب سے بڑا حملہ قرار دیا گیا تھا۔
Post New Comment