واشنگٹن (نمائندہ خصوصی + نیوز ایجنسیاں) امریکی صدر اوباما نے کہا ہے کہ وکی لیکس پر افشا ہونےوالی رپورٹ سے ثابت ہو گیا ہے کہ ان کا افغان جنگ کی حکمت عملی تبدیل کرنے کا موقف درست تھا۔ ادھر امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے کہا ہے کہ اوباما کو اب نئی حکمت عملی پر کانگرس اور عوام کی حمایت حاصل کرنے میں مشکلات پیش آئیں گی۔ گذشتہ روز وکی لیکس دستاویزات پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اوباما نے کہا کہ انارکی، افغان کرپشن پر تجاویز، شہریوں کی ہلاکتوں اور پاکستانی ایجنٹوں پر طالبان کی مدد کے الزامات پر مبنی ان دستاویزات میں کوئی نئی معلومات نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی ایسی معلومات نہیں جس پر ہم پہلے ہی عوامی بحث نہ کرا چکے ہوں۔ ان میں وہی چیلنجز بیان کئے گئے ہیں جن پر ہم پہلے ہی حکمت عملی تبدیل کرنے کےلئے انتہائی غوروخوض کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم اس علاقے کے چیلنج سے نمٹنے کےلئے 7 برس سے کوئی حکمت عملی نہیں دے سکے۔ اسی لئے ہم نے افغانستان اور پاکستان کے حوالے سے اپنے عزم کو بڑھایا ہے۔ تاکہ مفید حکمت عملی ترتیب دی جاسکے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق دستاویزات کے افشا ہونے سے امریکی صدر اوباما کانگریس میں وار فنڈ بل کے متعلق دفاعی پوزیشن پر چلے گئے ہیں۔ اخبار کے مطابق ان دستاویزات کے افشا ہونے پر صورتحال اس کے کہیں زیادہ گھمبیر ہے جتنی اوباما انتظامیہ ظاہر کر رہی ہے۔ اب اوباما کو افغان جنگ سے متعلق نئی حکمت عملی پر کانگرس اور عوام کی حمایت حاصل کرنے میں بھی مشکل پیش آئےگی۔ واشنگٹن میں پریس بریفنگ دیتے ہوئے امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان فلپ جے کراﺅلی نے کہا کہ پاکستان دہشت گردوں کےخلاف جارحانہ اقدامات اٹھا رہا ہے۔ سوات اور جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشنز اس بات کے واضح ثبوت ہیں۔ مشترکہ چیلنج سے نمٹنے کےلئے پاکستان کے ساتھ مل کر کام جاری رکھیں گے۔ افغان جنگ سے متعلق ویب سائٹ پر جاری خفیہ معلومات سالوں پرانی ہیں۔ تاہم ان کے منظرعام پر آنے سے ملکی سلامتی کو درپیش خطرات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ پاکستان بھارت کو دہشت گردی کےخلاف اپنے عزم پر قائل کرنے کےلئے ممبئی حملوں کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو شکست دینے کےلئے ہم پاکستان اور افغانستان کے ساتھ مل کر کام جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قیادت دہشت گردوں اور ان کی محفوظ پناہ گاہوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کےلئے پرعزم ہے اور ایسا کر بھی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ امریکہ نے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی امداد دی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے نہ صرف اپنا لہو بلکہ خزانہ بھی لگایا ہے۔ ادھر امریکہ کے اتحادی ممالک میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ یورپی یونین سمیت مختلف ممالک نے امید ظاہر کی ہے کہ اتحادی افواج کی خفیہ کارروائیوں سے متعلق دستاویزات منظرعام پر آنے سے افغان جنگ پر منفی اثرات نہیں پڑیں گے۔ امریکی افواج کے سربراہ ایڈمرل مائیک مولن نے کہا کہ دستاویزات میں کوئی ایسی بات نہیں جس پر امریکی حکومت نے گذشتہ برس افغان جنگ کی حکمت عملی وضع کرنے سے قبل غور نہ کیا ہو۔ اس لئے ہماری افغان پر حکمت عملی میں کوئی تبدیلی آئے گی نہ ہی پاکستان کے ساتھ تعلقات متاثر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی خفیہ اداروں کے حقانی نیٹ ورک یا لشکر طیبہ سے تعلقات ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے خفیہ دستاویزات کے منظرعام پر آنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایسے اقدامات کرنا ہوں گے کہ مستقبل میں دوبارہ ایسا نہ ہو سکے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنے اداریئے میں پاکستان ڈبل گیم کے عنوان سے لکھا ہے کہ افغانستان میں طالبان کو شکست دینا پاکستان کے بغیر ناممکن ہے۔ صدر اوباما پاکستان پر دباﺅ ڈال کر طالبان اور انتہاپسندوں سے اس کے تعلقات منقطع کرائیں۔ ادھر واشنگٹن پوسٹ نے انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ پاکستان کی معاشی و اقتصادی حالت سدھارنے کےلئے فوری مدد کرے ورنہ عوام طالبان اور دوسرے گروپوں کی طرف دیکھنا شروع کر دیں گے اور مرکزی حکومت کا ڈھانچہ گر جائے گا امریکہ ٹیکسٹائل کوٹے پر بھی توجہ دے۔ امریکی ماہر عسکری امور لارا لوگن نے کہا کہ ان دستاویز کے منظرعام پر آنے سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔ افغان نیشنل سکیورٹی کونسل نے کہا کہ افغان جنگ پر امریکہ کی پالیسی متضاد ہے اسی لئے پاکستان کے بدامنی میں کردار کو نظرانداز کر دیا ہے۔ 9 برس میں امریکہ پاکستان میں چھپے طالبان اور ان کے حامیوں پر حملہ کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ہمیں افسوس ہے کہ ہمارے اتحادی بین الاقوامی دہشت گردوں کو بیرونی امداد پر توجہ نہیں دے رہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے بیان میں کہا کہ ان دستاویزات میں افغانستان کی صورتحال کھل کر بیان نہیں کی گئی ہے اور جنگ کے شہریوں پر اثرات پر بھی زیادہ روشنی نہیں ڈالی گئی۔
Post New Comment