لاہور+ مکہ مکرمہ (خبرنگار خصوصی+ مبشر اقبال لون استادانوالہ سے) اسلامی تاریخ کے 1422 ویں حج کے مناسک آج بدھ 25 نومبر 2009ء سے شروع ہونگے۔ دنیا بھر سے آئے ہوئے 25 لاکھ سے زائد مسلمان لبیک اللھم لبیک‘ کی صدائیں بلند کرتے ہوئے مکہ شہر کے شمال مشرق میں چھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع وادی منیٰ میں قائم خیموں کے شہر میں پہنچنا شروع ہوگئے ہیں جہاں وہ آج ظہر‘ عصر‘ مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کرینگے۔ پھر کل صبح نماز فجر کی ادائیگی کے بعد حج کے سب سے بڑے رکن وقوف عرفات کیلئے روانہ ہونگے۔ سعودی حکومت نے لاکھوں مسلمانوں کی طرف سے حج کی ادائیگی کیلئے تمام انتظامات کو حتمی شکل دیدی ہے۔ منیٰ میں سب حاجیوں کو ان کے معلمین کے ذریعے خیمے الاٹ کردئیے گئے ہیں۔ 3 ارب ریال کی لاگت سے بنائی جانیوالی 40 ہزار خیموں پر مشتمل منیٰ کی خیمہ بستی میں ٹفلون سے تیار کردہ تمام خیمے فائر پروف ہیں جو 700 درجے سینٹی گریڈ تک گرمی برداشت کرسکتے ہیں۔ یہاں ائرکنڈیشنڈ لگائے گئے ہیں اور ان میں آگ بجھانے کا خودکار نظام نصب ہے۔ حج کے پانچ دنوں یعنی 8 تا 12 ذوالحجہ تک منیٰ کے خیموں کے شہر میں حاجیوں کی سکیورٹی‘ امن و امان برقرار اور ٹریفک رواں دواں رکھنے اور غیرقانونی طور پر سڑکوں اور چوراہوں میں ڈیرے لگا کر آمدورفت میں رکاوٹ پیدا کرنے والوں کو روکنے کیلئے پورے علاقے کو متعدد سکیورٹی سیکٹروں میں تقسیم کرکے ایک لاکھ سکیورٹی اہلکار تعینات کردئیے گئے ہیں۔ حاجیوں کو مکہ سے منیٰ پہنچانے کیلئے 20 ہزار بسوں کو اجازت نامے جاری کئے گئے ہیں۔ سعودی وزارت صحت کے مطابق لاکھوں عازمین حج کی صحت کی صورتحال مجموعی طور پر تسلی بخش ہے اور حج کے دوران کوئی وباء پھوٹنے کا اندیشہ نہیں۔ سعودی حکومت نے دوران حج منیٰ‘ عرفات اور مزدلفہ کی عارضی بستیوں میں دنیا بھر سے آنیوالے حاجیوں کو ابتدائی طبی امداد اور علاج معالجے کی معیاری سہولتیں مہیا کرنے کیلئے 14 ہسپتالوں اور 138 ڈسپنسریوں میں سپیشلسٹ ڈاکٹروں‘ نرسوں اور پیرامیڈیکل سٹاف کے مجموعی طور پر 17 ہزار سے زائد افراد پر مشتمل عملہ تعینات کردیا ہے۔ تمام جگہوں پر بھاری مقدار میں ضروری ادویات اور جدید ترین طبی آلات مہیا کردئیے گئے ہیں۔ مقامی ہسپتالوں میں 4 ہزار بستروں اور خون کی ہزاروں بوتلوں کا انتظام کرلیا گیا ہے۔ سعودی محکمہ شہری دفاع نے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نپٹنے کیلئے اپنا کنٹیجینسی پلان وضع کرلیا ہے۔ مشاعر مقدسہ کے پورے علاقے کو مختلف انتظامی زونوں میں تقسیم کرکے اپنے ہزاروں امدادی کارکنوں کو ہر وقت چوکس رہنے کی ہدایت کی ہے۔ مختلف مقامات پر سکیورٹی کیمرے نصب کئے گئے ہیں۔ 10ہیلی کاپٹر اور 3 ہزار سے زائد بھاری مشینیں کسی بھی طرح کی صورتحال سے نپٹنے کیلئے موجود ہیں۔ اہم مقامات پر بڑے بڑے بورڈ آویزاں کرنے کے علاوہ ٹیلیویژن سکرینیں بھی لگائی گئی ہیں جن کے ذریعے حاجیوں کی رہنمائی کیلئے ایمرجنسی کی صورت میں اختیار کی جانیوالی حفاظتی تدابیر بتائی جا رہی ہیں۔ اس سال سب سے زیادہ حاجیوں کا تعلق انڈونیشیا سے ہے جن کی تعداد دو لاکھ ہے۔ امسال 25 لاکھ عازمین حج کو جمرات کی رمی کیلئے غیرآلودہ کنکریاں عمدہ تھیلیوں میں پیش کی جائیں گی۔
Post New Comment