آسٹریلیا میں ہونے والے عام الیکشن میں حکمران لیبر پارٹی اور حزب اختلاف کی قدامت پسند جماعت واضح اکثریت سے محروم ہیں جس کے نتیجے میں معلق پارلیمنٹ کے وجود میں آنے کا قوی امکان ہے۔

ـ 22 اگست ، 2010
  • Adjust Font Size
آسٹریلیا میں ہونے والے عام الیکشن میں حکمران لیبر پارٹی اور حزب اختلاف کی قدامت پسند جماعت واضح اکثریت سے محروم ہیں جس کے نتیجے میں معلق پارلیمنٹ کے وجود میں آنے کا قوی امکان ہے۔

آسٹریلوی میڈیا کے مطابق اسی فی صد ووٹوں کی گنتی کی جا چکی ہے۔ وزیراعظم جولیا گیلارڈ کی لیبرپارٹی کو زیادہ سے زیادہ بہتر نشستیں حاصل ہوں گی۔ اپوزیشن لیڈر ٹونی ایبٹ کی قدامت پسند جماعت کے انتخابی اتحاد کو زیادہ سے زیادہ تہتر نشستیں ملنے کا امکان ہے۔آسٹریلوی پارلیمنٹ میں اکثریت کے لئے کم از کم چھہترنشستوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس طرح دونوں بڑی جماعتیں حکومت سازی کا ہدف حاصل نہیں کرسکیں اور آسٹریلیا میں انیس سو چالیس کے بعد معلق پارلیمنٹ وجود میں آئے گی۔ پہلی بار وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہونے والی جولیا گیلارڈ کا کہنا ہے کہ وہ عوامی رائے کا احترام کرتی ہیں۔ قائد حزب اختلاف ٹونی ایبٹ نے انتخابی نتیجے کے بعد کہا کہ یہ عوام کی زور دار آواز ہے اور ان کی پارٹی ایک بار پھر عوام کے اعتماد پر اترنے کی کوشش کرے گی۔ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ معلق پارلیمنٹ کے وجود میں آنے سے آسٹریلوی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions