پورٹ اوپرنس (ایجنسیاں) ہیٹی نے قیامت خیز زلزلے کے بعد تعمیر نو کیلئے عالمی برادری سے دس ارب ڈالر کی امداد طلب کرلی ہے۔ ایک غیر ملکی خبر رساں ادار ے کے مطابق ہیٹی کے صدر پریوال نے کہا ہے کہ عالمی برداری ملک کی تعمیر نو کیلئے دس ارب ڈالر فراہم کرے۔ ہیٹی میں امدادی کارروائیوں کیلئے امریکہ کی جنوبی کمانڈ سے 22 سو میرینز بھیجے جارہے ہیں۔ ادھر وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ہیٹی کے زلزلہ متاثرین کیلئے امدادی سامان بھیجنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم نے یہ ہدایت اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کی طرف سے عالمی برادری سے مدد کی اپیل کے بعد کی۔ وزیراعظم نے کیبنٹ ڈویژن کو ہدایت کی کہ ہیٹی میں تباہ کن زلزلے کے متاثرین کیلئے پاکستان کی طرف سے 3000 خیمے‘ کمبل اور 8 ٹن ادویات بھیجی جائیں۔ یہ سامان اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے نمائندے کے حوالے کیا جائیگا جو اسے ہیٹی پہنچائینگے۔ سابق امریکی صدر اور اقوام متحدہ کے سفیر بل کلنٹن امدادی سامان لے کر دارالحکومت میں پہنچ گئے ہیں۔ یورپی یونین نے ہیٹی کے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں کیلئے 200 ملین یورو امداد کا اعلان کیا ہے۔ امریکی فوج کے ترجمان کے مطابق پورٹ او پرنس میں امدادی کام کے دوران ایک حادثے میں 1 امریکی شخص ہلاک اور 3 شدید زخمی ہوگئے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں تشدد اور لوٹ مار کے واقعا ت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ بے گھر افراد ضروریات زندگی کی اشیاحاصل کرنے کیلئے ایک دوسرے پر حملے کررہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے ادارے کی سلامتی کونسل سے سفارش کی ہے کہ ہیٹی میں تعینات امن فوج کے دستوں اور پولیس کی تعداد کو ساڑھے تین ہزار تک بڑھا کر انہیں فوری طور پر تعینات کردیا جائے تاہم ہنگامی امداد کی ترسیل پر اقوام متحدہ کے رابطہ کار جون ہولمز نے لوٹ مار کے واقعات اور سلامتی پر خدشات کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ گو تشدد کے کچھ واقعات ہوئے ہیں تاہم مجموعی صورتحال تسلی بخش ہے۔ زلزلہ متاثرین دارالحکومت پورٹ او پرنس اور دوسرے بری طرح تباہ شدہ حصوں کی جانب نقل مکانی کررہے ہیں۔ پورٹ او پرنس کے امریکی سفارتخانے کے باہر ویزے کے خواہشمندوں کی ایک لمبی قطار بھی دیکھی جارہی ہے جو امریکہ میں مقیم اپنے رشتے داروں کے پاس جانا چاہتے ہیں لیکن دوسری جانب زلزلہ متاثرین دارالحکومت پورٹ او پرنس اور دوسرے بری طرح تباہ شدہ حصوں کی جانب نقل مکانی کررہے ہیں۔ پورٹ او پرنس کے امریکی سفارتخانے کے باہر ویزے کے خواہشمندوں کی ایک لمبی قطار بھی دیکھی جارہی ہے جو امریکہ میں مقیم اپنے رشتے داروں کے پاس جانا چاہتے ہیں۔ ساتھ ہی ایسی اطلاعات بھی مل رہی ہیں کہ امداد کی عدم فراہمی کے باعث لوٹ مار بھی کی جارہی ہے۔ زلزلے میں ہلاک ہونے والے لوگوں کی تعداد پر اب بھی ابہام برقرار ہے۔ اقوام متحدہ اور امدادی اداروں کے اندازوں کے مطابق مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہوسکتی ہے لیکن ہیٹی میں تعینات امریکی فوج کے اعلٰی ترین اہلکار جنرل کن کین کے مطابق مرنےوالوں کی تعداد دو لاکھ تک ہوسکتی ہے۔ ہیٹی میں زلزلے کے بعد تباہی کا جائزہ لینے اور امداد کیلئے ڈونرز ممالک کا سربراہی اجلاس طلب کرنے کے بارے میں ڈونرز کا وزارتی اجلاس آئندہ ہفتے کینیڈا میں طلب کرلیا گیا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کینیڈین وزیرخارجہ لارنس کینسن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں ہیٹی کے حوالے سے ڈونرز اجلاس کے ایجنڈے اور شیڈول پر تبادلہ خیال کیا جائےگا اور یہ اجلاس آئندہ پیر کو ہوگا۔ انہوں نے تمام ڈونرز اور ہیٹی کے تمام دوست ممالک پر زور دیا کہ وہ تباہ شدہ ہیٹی کی دوبارہ تعمیر اور اسے اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنے کیلئے ہر ممکن مدد اور تعاون کریں۔
Post New Comment