کابل (ریڈیو نیوز) صدر حامد کرزئی کے قریبی مشیر نے دعویٰ کیا ہے کہ نائب طالبان سربراہ ملا برادر کی پاکستان سے گرفتاری کے وقت افغان حکومت ان سے خفیہ مذاکرات کررہی تھی اور انکی حراست پر کرزئی مشتعل ہوگئے تھے۔ امریکی خبر ایجنسی کے مطابق طالبان نائب سربراہ سے افغان حکومت کے نہ صرف مذاکرات جاری تھے بلکہ وہ کرزئی کی جانب سے اگلے مہینے ہونیوالے تین روزہ امن جرگے میں شرکت کا گرین سگنل بھی دے چکے تھے۔ صدر کرزئی کے مشیر نے معاملہ حساس ہونے کی وجہ سے اپنا نام ظاہر نہیں کیا تاہم گورنر ہلمند کے سکیورٹی مشیر عبدالعلی شمسی سمیت دیگر افغان حکام نے بھی ملا برادر اور حکومت کے درمیان خفیہ مذاکرات کی تصدیق کی ہے۔ شمسی کے مطابق ملا برادر نے افغان حکومت کی ایک پیشکش کو طالبان شوریٰ کے سامنے رکھا جسے ملا عمر نے مسترد کردیا جبکہ تنظیم کے اندر ملا برادر کے مخالفین نے افغان حکومت سے کسی بھی طرح کے مذاکرات کی سخت مخالفت کی تھی۔
Post New Comment