ہلمند میں شدید لڑائی‘ 4 امریکیوں سمیت 6 فوجی ہلاک‘ متعدد زخمی

ـ 14 فروری ، 2010
  • Adjust Font Size

کابل (اے ایف پی) افغانستان کے صوبے ہلمند میں طالبان کے خلاف اتحاجی فوج کا بڑا آپریشن جاری ہے۔ فریقین نے ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کے دعوے کئے ہیں۔ دوسری جانب خودکش حملوں اور بم دھماکے میں چار امریکی فوجی ہلاک اور دس زخمی ہو گئے۔ ہلمند کے علاقے مرجاہ میں کئے جانے والے آپریشن مشترک میں پندرہ ہزار فوجی حصہ لے رہے ہیں۔ ساتھ سے زائد ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بڑی تعداد میں امریکی اور افغان فوجی مرجاہ پہنچائے گئے جبکہ برطانوی فوجیوں نے ملحقہ ضلع ناد علی کے شمالی حصے سے پیش قدمی کی۔ برطانوی نیوز ایجنسی کے مطابق حملے میں کم از کم ایک امریکی میرین زخمی ہو گیا۔ افغان کمانڈر شیر محمد نے دو مقامات پر جھڑپوں میں 5 طالبان کو شہید کرنے کا دعویٰ کیا جبکہ طالبان کے ترجمان یوسف احمدی نے بھی 6 اتحادی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔ ہلمند میں ٹاسک فورس لیدر نیک میرینز کے ترجمان لیفٹیننٹ جوش ڈی ڈیمز کا کہنا ہے کہ اتحادی فوجی پیش قدمی کر رہے ہیں اور انہیں مزاحمت کا سامنا ہے۔ طالبان نے کہا کہ مرجاہ پر ان کا کنٹرول برقرار ہے۔ دوسری جانب نیٹو نے ایک بیان میں کہا کہ جنوبی افغانستان میں سڑک کے کنارے نصب بم پھٹنے سے تین امریکی فوجی ہلاک ہو گئے۔ ادھر قندھار شہر میں اتحادی فوج کے قافلے پر خودکش حملہ کیا گیا جس میں ایک امریکی فوجی سمیت دو افراد ہلاک ہو گئے۔ مشرقی صوبے پکتیاں کے ضلع Dand aw Patan میں بھی طالبان نے ایک امریکی اڈے پر خودکش حملہ کیا۔ امریکی فوج کے مطابق حملے میں پانچ فوجی زخمی ہوئے جن میں ایک کی حالت تشویشناک ہے۔ بم دھماکے سے ایک برطانوی‘ ایک کینیڈین فوجی ہلاک اور 4 زخمی ہو گئے۔ دوسری جانب افغان صدر حامد کرزئی نے ایک بیان میں افغان اور اتحادی فوجیوں سے کہا کہ آپریشن انتہائی احتیاط سے کیا جائے اور کوشش کی جائے کہ شہریوں کا جانی نقصان نہ ہو۔ انہوں نے فوجی حکام سے کہا کہ ا ن علاقوں میں فضائی حملوں سے گریز کیا جائے جہاں شہریوں کی جان کو خطرہ ہو۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions