پاکستان کے داخلی چیلنجز اب علاقائی چیلنجز بن گئے: مولن

ـ 12 مارچ ، 2011
  • Adjust Font Size

فونکس (ایری زونا) (نیٹ نیوز) امریکہ کے چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف ایڈمرل مائیک مولن نے کہا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقے پوری دنیا کے لئے دہشت گردی کا مرکز ہیں۔ پاکستان کے داخلی چیلنجز علاقائی چیلنجز بن کر رہ گئے ہیں‘ ایری زونا سٹیٹ یونیورسٹی کے والٹر کرانکائٹ سکول آف جرنلزم اینڈ ماس کمیونیکیشن کے طلبا اور کمیونٹی کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے مولن نے کہا کہ عسکریت پسند تنظیمیں‘ کوئٹہ شوریٰ اور تحریک طالبان پاکستان بہت بڑا ممکنہ خطرہ ہیں‘ پاکستان میں حالیہ خودکش بم دھماکے‘ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر اور اقلیتی امور کے وزیر شہباز بھٹی کے قتل کے واقعات امریکہ کے لئے باعث تشویش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1990ء سے 2000ء کے عرصہ میں ہمارے پاکستانی فوج سے جو رابطے منقطع رہے وہ ان گزشتہ برسوں میں ڈرامائی طور پر بحال ہوئے ہیں۔ ہم دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والا بڑا خلا پرکرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ 1990ء میں جو اعتماد ختم ہو گیا تھا اسے بحال کر رہے ہیں۔ یہ ایک اہم مرحلہ ہے اور ہم نے مختلف امور پر نظر رکھی ہوئی ہے۔ یہ تحریک طالبان پاکستان ہو‘ لشکر طیبہ‘ افغان طالبان یا کوئٹہ شوریٰ ہماری ان سب پر توجہ مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے صبری کی حکمت عملی اپنا کر سب کچھ فوری حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان ایک خودمختار ملک ہے پاکستانی عوام اور حکومت نے فیصلہ کرنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کیسے آگے بڑھا جائے۔ کوئٹہ پر ڈرون حملوں کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ آپ لوگ اپنے ملک کو بہتر طور پر جانتے ہیں اور آپ نے ہی درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے بارے میں فیصلے کرنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرا گزشتہ 20 سال سے پاکستان کے ساتھ تعلق ہے اور میں ان چیلنجوں کو انڈر ایسٹیمیٹ نہیں کر سکتا۔
مولن

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions