کابل (آئی این پی+اے ایف پی) ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے امریکی وزیر دفاع کو جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نہیں بلکہ امریکہ خود افغانستان میں ڈبل گیم کر رہا ہے اس نے خود دہشت گرد پیدا کئے اور اب وہ خود ان سے لڑنے کا ڈرامہ کررہا ہے‘ جب امریکہ یہاں سے کوسوں دور ہے تو امریکی یہاں کیا کررہے ہیں‘ کرزئی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم افغان حکومت کے ساتھ ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ مستحکم ہو دہشت گردوں کا مقابلہ میدان جنگ میں نہیں بلکہ انٹیلی جنس کے استعمال کے ذریعے ہوتا ہے میدان جنگ بنا دینے سے فوجیوں اور شہریوں کا نقصان ہوتا ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران ایران اور افغانستان کے صدور نے کہا کہ دونوں برادر ممالک کے مفادات یکساں ہیں وہ تاریخی اور ثقافتی رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں اور مل کر مسائل پر قابو پاسکتے ہیں۔ حامد کرزئی نے کہا کہ ایران تعمیر نو کے منصوبوں اور تعلیم و بجلی کے شعبوں میں مدد دے رہا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایران افغانستان میں امن اور استحکام کے لئے بھی ہمارے ساتھ مل کر کام کرے رابرٹ گیٹس نے کہا کہ ایران افغانستان میں ڈبل گیم کر رہا ہے وہ طالبان کی مدد کرکے امریکہ اور نیٹو کی امن کوششوں کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے گیٹس نے کہا کہ جولائی 2011ءکی صدر اوباما نے فوج کی واپسی کے لئے ڈیڈ لائن دی ہے لیکن یہ عمل پہلے شروع ہوسکتا ہے۔
Post New Comment