نئی دہلی (ریڈیو نیوز/ اے ایف پی) خواتین کو پارلیمنٹ میں 33 فیصد نمائندگی دینے کیلئے راجیہ سبھا نے بل منظور کر لیا ہے۔ بھارت کی راجیہ سبھا اور لوک سبھا میں خواتین بل کے معاملے پر ہنگامہ آرائی ہوئی جبکہ خواتین بل کی حمایت اور مخالفت میں نعرے بازی کی گئی راجیہ سبھا میں خواتین بل کی کاپیاں پھاڑنے پر سات ارکان کی رکنیت معطل کردی گئی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق خواتین کیلئے 33 فیصد نشستیں مخصوص کرنے کا بل 14 سال سے کھٹائی میں پڑا تھا کانگریس کو خواتین بل کے حوالے سے بی جے پی اور بائیں بازو کی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے حکومت کی اتحادی جماعتیں بل کی مخالف ہیں۔ راشٹریہ جنتا دل اور سماج وادی پارٹی اس بل کو اقلیتوں کے خلاف قرار دے رہے ہیں بھارتی پارلیمنٹ میں خواتین بل پر بحران جاری ہے لالو پرشاد یادیو اور ملائم سنگھ یادیو سمیت 27 ارکان پارلیمنٹ حکومت سے علیحدگی کی دھمکی دے چکے ہیں جبکہ لالو پرشاد یادیو اور ملائم سنگھ یادیو نے بل کے حوالے سے وزیراعظم من موہن سنگھ سے ملاقات کی جو بے سود رہی ملاقات میں این ڈی اے حکومت میں شامل شردیادیو بھی موجود تھے۔بعدازاں راجیہ سبھا نے خواتین بل کو بغیر بحث کے منظور کر لیاوزیراعظم منموہن سنگھ نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ یہ ایک تاریخی بل ہے۔ یہ ہندوستان کی ان عظیم اور بہادر خواتین کے اس قرض اتارنے کے لیے ہے جنہوں نے تحریک آزادی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ یہ بل اقلیتی برادری یا دوسرے طبقہ کی مخالفت میں نہیں بلکہ اس سے حواتین کی خود مختاری کا عمل شروع ہوگا۔ قانون بننے کے لیے اس بل کو لوک سبھا سے منظوری کے بعد کم سے کم نصف ریاستی اسمبلیوں سے منظوری ضروری ہے۔ماہرین کے مطابق راجیہ سبھا سے منظوری ایک اہم پہلا قدم ہے لیکن اس پر ابھی لمبی بحث ہوگی اور قانون بننے میں ابھی وقت لگے گا۔
Post New Comment