اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) ہالینڈ کی ممتاز سکالر اور انسانی حقوق کی تنظیم انٹرنیشنل پیس موومنٹ کی رہنماءمرجان لوکاس نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں سات لاکھ بھارتی فوج کی موجودگی کا کوئی جواز نہیں۔ امریکہ افغانستان میں صرف تیس ہزار فوج بھیج رہا ہے جبکہ بھارت نے حالت امن میں سات لاکھ فوج مقبوضہ کشمیر میں متعین کررکھی ہے۔ وقت نیوز کے پروگرام خارجہ امور میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے سوالات کا جواب دیتے ہوئے مرجان لوکاس نے کہا کہ حال ہی میں مقبوضہ کشمیر میں جو اجتماعی قبریں دریافت ہوئی ہیں وہ ان کشمیریوں کی ہیں جو کئی برسوں سے لاپتہ ہیں۔ مرجان لوکاس نے کہا کہ اس وقت عالمی توجہ افغانستان اور عراق پر مرکوز ہے۔ کشمیر پر ان کی توجہ نہیں ہے حالانکہ دنیا کو یہ مان لینا چاہئے کہ کشمیر میں امن ہوگا تو افغانستان میں امن ہوگا۔ اس سوال پر کہ مغرب کی انسانی حقوق کی کئی تنظیمیں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں رپورٹیں دے رہی ہیں لیکن بھارت کی مغربی ممالک میں بااثر لابیاں ان رپورٹوں پر عملدرآمد نہیں ہونے دے رہیں۔ مرجان لوکاس نے کہا کہ بعض بھارتی دانشور بھارت کی کشمیر پالیسی پر نکتہ چینی کررہے ہیں لیکن بھارتی حکومت ان دانشوروں کو کشمیر دوست دانشور قرار دیکر ان کی نکتہ چینی کو بے اثر بنا دیتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں مرجان لوکاس نے کہا کہ بھارت انسانی حقوق کی تنظیموں کو مقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت نہیں دے رہا۔ خود مجھے بھی بھارت مقبوضہ کشمیر کا ویزہ نہیں دے رہا۔
Post New Comment