تہران (آن لائن) ایران نے ڈرون طیاروں کی بڑے پیمانے پر پیداوار شروع کردی ہے جبکہ آج سے صدر نژاد کے حکم پر یورینیم کی 20 فیصد افزودگی کا عمل شروع کریگا۔ ایران کے سرکاری ٹی وی چینل نے وزیر دفاع جنرل احمد وحیدی کے حوالے سے کہا ہے کہ تہران نے پیر کو ڈرون طیاروں کی پیداوار شروع کردی ہے۔ یہ ڈرون طیارے جاسوسی آپریشنز کے ساتھ ساتھ اہم اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کے بھی حامل ہونگے۔ دریں اثناءایرانی خبررساں ادارے کے مطابق فضائیہ کے ایک سینئر کمانڈر جنرل حشمت اللہ کیسری نے بتایا ہے کہ ایران جلد میزائل ایئر دفاعی نظام بھی نصب کررہا ہے جو کہ روس کے ایس 300 سسٹم سے زیادہ طاقتور ہے۔ ایران نے ایس 300 سسٹم کا ایران سے آرڈر کیا تھا تاہم اسے یہ ابھی تک نہیں ملا ہے۔غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایران کے جوہری توانائی ادارے کے ڈائریکٹر علی اکبر صالح نے صحافیوں کے ساتھ بات چیت کے دوران کہا کہ ہم نے عالمی ایٹمی توانائی ادارے کو ایک خط لکھ کر بیس فیصد مزید یورینیم افزودہ کرنے کے اپنے ارادے سے آگاہ کیا ہے۔ اور ابھی ہم یہ خط اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو بھی بھیجیں گے جس کے بعد ہم آج سے بیس فیصد یورینیم کی افزودگی شروع کرینگے، علی اکبر صالح کا مزید کہنا تھا کہ ان کا ملک آئندہ سال تک یورینیم کی افزودگی کے مزید دس نئے پلانٹس تعمیر کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ اگر ایران کو جوہری ایندھن فراہم کیا جا سکتا ہے تو وہ یورینم کی افزودگی سے دستبردار ہوسکتا ہے۔ ایران نے کہا ہے کہ وہ اپریل یا مئی میں جوہری اور دیگر تباہ کن ہتھیاروں کیخلاف ایک عالمی کانفرنس کی میزبانی کریگا۔ انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس کے انعقاد کا مقصد عالمی برادری پر یہ واضح کرنا ہے کہ ہم تباہ کن جوہری ہتھیاروں کے پھیلاﺅ کیخلاف ہیں۔
Post New Comment