واشنگٹن (آئی اےن پی) امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ القاعدہ والے بہت ہوشیار، چالاک، پرعزم، متنوع اور شیطانی ذہنیت والے لوگ ہیں جو ہماری کمزوریاں اور موقعے تلاش کرتے ہیں، افغانستان اور پاکستان میں بڑی تعداد میں یہ لوگ پکڑے گئے ہیں لیکن ہم اب بھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان کی صلاحیت میں کمی ہوئی ہے۔ امریکہ اور اتحادی ممالک افغان صدر حامد کرزئی پر اعتماد کرتے ہیں کہ وہ صورتحال کو سنبھال لیں گے۔ ہم امریکہ کو محفوظ کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لئے ہر کوشش کریں گے۔ سی این این کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ہمیں القاعدہ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں سے آج بھی خطرہ ہے اگرچہ ہم نے خطرہ کم کیا ہے اور اس کے لئے ہم نے بڑی محنت کی ہے گزشتہ چھ ماہ میں بہت سے حملے روکے گئے۔ اسامہ بن لادن کی نئی ٹیپ میں کوئی خاص بات نہیں ہمارے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم لوگوں کا حوصلہ بڑھائیں اور ہوشیار رہیں تاکہ امریکہ کو محفوظ بنایا جا سکے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا القاعدہ اب زیادہ مضبوط ہے تو ہلیری کلنٹن نے کہا کہ یہ کہنا بہت مشکل ہے وہ ہمارے خلاف سازش کرتے ہیں مگر وہ زیادہ متنوع، ہوشیار، پرعزم، چالاک اور شیطانی ذہنیت رکھنے والا گروپ ہے مواقع تلاش کرتا ہے اس لئے ہمیں ہوشیا رہنا ہو گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان میں ان کی صلاحیت میں کمی کی گئی ہے تو انہوں نے یمن اور شمالیہ کا رخ کر لیا ہے۔ افغانستان اور پاکستان ہم سے تعاون کر رہے ہیں اور بہت بڑی تعداد میں القاعدہ کی اعلیٰ قیادت اور طالبان کے لوگ پکڑے گئے ہیں۔ افغانستان اور پاکستان میں ان کی تعداد کم ہو رہی ہے ۔
لیکن بدقسمتی سے یہ لوگ بے گناہ لوگوں کو قتل کرنے کا عزم کر چکے ہیں اور وہ یہ کام اپنے ملکوں میں اور دنیا بھر میں حتیٰ کہ امریکہ میں بھی کرنا چاہتے ہیں۔
Post New Comment