ہلمند میں بڑے فوجی آپریشن کا مقصد طالبان کی قوت توڑنا ہے : امریکی وزیر دفاع

ـ 9 فروری ، 2010
  • Adjust Font Size

واشنگٹن +لندن + کابل (آئی این پی) امریکہ اور نیٹوافواج کی افغانستان کے صوبہ ہلمند میں ایک بڑے آپریشن کی تیاریاں حتمی مراحل میں پہنچ گئیں جبکہ طالبان بھی اس بڑی جنگ کےلئے تیار ہیں اور برطانوی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ اس جنگ میں اس کے فوجیوں کو زیادہ جانی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ واشنگٹن میں امریکہ کے وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا کہ ہماری بنیادی حکمت عملی یہ ہے کہ طالبان کی قوت کو توڑا جائے۔ صوبہ ہلمند کی اس کارروائی میں 15ہزار امریکی، برطانوی اور افغان فوجی حصہ لیں گے۔ اس حملے کو 40 سال قبل ویت نام جنگ کے بعد سب سے بڑا آپریشن کہا جا رہا ہے ۔ دوسری جانب طالبان بھی اس جنگ کےلئے تیاریاں کر رہے ہیں۔ ضلع نادِ علی میں طالبان کمانڈرعبد اللہ نصرت کا کہنا ہے کہ دو ہزار مجاہدین جنگ کیلئے تیار ہیں اور موت تک لڑیں گے۔ علاقے کے ایک شخص کا کہنا ہے کہ طالبان بہت سرگرم ہیں اورمرجح اور ملحقہ علاقوں میں بارودی سرنگیں بچھا رہے ہیں ادھر برطانیہ نے اپنے شہریوں کو اس جنگ کےخلاف ذہنی طور پر تیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ میں برطانوی فوجیوں کو بڑا جانی نقصان ہوسکتا ہے۔ برطانوی وزیر دفاع بوب اینزورتھ نے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ کو افغانستان میں نقصانات کیلئے تیار رہنا چاہئے۔ افغان ذرائع ابلاغ کے مطابق اتحادی فوج اور افغان حکام نے بتایا کہ ہلمند کے ضلع ناد علی اور لشکر گاہ کے قریبی علاقوں میں افغان اور اتحادی فوج نے مشترکہ آپریشن کے دوران کم سے کم 16 طالبان کو شہید کر دیا۔ ہلمند کے ڈپٹی گورنر عبدالستار نے بتایا کہ ضلع نادعلی کے علاقے خوشحال کلے اور بابا جی کے علاقوں میں یہ کارروائی کی گئی۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions