فلوریڈا + واشنگٹن (اے ایف پی + آئی این پی + ریڈیو مانیٹرنگ) امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ القاعدہ افغانستان‘ پاکستان‘ سعودی عرب‘ یمن اور شمالی افریقہ میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو ایران سے زیادہ خطرہ القاعدہ سے ہی ہے۔ تاہم شمالی کوریا اور ایران بھی امریکہ کے لئے بہت بڑا اور حقیقی خطرہ ہیں۔ دریں اثنا پاکستان اور افغانستان کیلئے امریکی نمائندہ خصوصی رچرڈ ہالبروک نے کہا ہے کہ طالبان سے مذاکرات میں امریکہ براہ راست ملوث نہیں۔ انہوں نے کہا کہ طالبان سے مذاکرات کیلئے عسکری کامیابی اور اعتماد کی فضا قائم کرنا ضروری ہے۔ ہالبروک نے کہا کہ طالبان سے مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں لیکن اس میں براہ راست ملوث نہیں۔ دریں اثنا امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے القاعدہ کو اخلاقی طور پر دیوالیہ قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ القاعدہ عراق میں وحشیانہ کارروائیاں کررہی ہے۔ جنرل پیٹریاس نے کہا کہ القاعدہ اسلام کے پیغام اور ساکھ کو بری طرح متاثر کررہی ہے۔ انہوں کہا گیا ہے کہ عراق کے مسلمان القاعدہ کے جھانسے میں آنے کے بجائے جمہوریت کے فروغ کیلئے پر عزم ہیں۔ عراق میں شہداءکربلا کے چہلم کے موقع پر دہشت گردی کے واقعات کو القاعدہ کی بربریت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ القاعدہ کے حملوں سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ وہ اسلامی دنیا کیلئے ایک بہتر مستقبل نہیں دیکھنا چاہتی۔ انہوں نے کہا کہ القاعدہ کے اقدامات دنیا بھر کے معاشروں کیلئے ناقابل قبول ہیں۔
Post New Comment