لندن (اے پی پی) 2003ءمیں عراق کے خلاف جنگ کی مخالفت کرنے والی سابق برطانوی وزیر برائے عالمی ترقی کلیرے شارٹ نے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے عراقی جنگ کے تحقیقات کمیشن کو بتایا کہ ٹونی بلیئر کا صدام حسین کے بین الاقوامی دہشت گردوں سے رابطہ کا بیان مضحکہ خیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹونی بلیئر کا اس ضمن میں موقف سرا سر جھوٹ پر مبنی ہے۔کلہرے شارٹ نے تحقیقاتی کمیشن کو بتایا کہ اس وقت صدام حسین کے بین الاقوامی دہشت گردوں کے ساتھ رابطوں بارے کئی قسم کے کوئی شواہد نہیں ملے تھے جبکہ امریکہ نے بھی غلط بیانی سے عوام کو گمراہ کیا۔ کلیرے شارٹ نے کہا کہ عراق میں غلط طور پر جنگ شروع کرنے سے عراق اب پہلے سے بھی زیادہ خطرناک ملک بن گیا ہے اور ملک میں بدامنی و شورش کے نتیجہ میں القاعدہ کو عراق میں پنپنے کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں اقوام متحدہ کی طرف سے عراق میں جنگ برپا کرنے کیلئے دوسری قرارداد کی منظوری سے قبل وہاں جنگ کرنا غیر قانونی تھا۔ انہوں نے کہا کہ عراق کے بارے میں ان کی بلیئر سے 2002ءمیں بات ہوئی اور انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ عراق کے خلاف جنگ نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ٹونی بلیئر نے دنیا اور اپنی قوم کو گمراہ کیا اور اپنے اختیارات کے ناجائز استعمال کے مرتکب ہوئے۔ کلیر شارٹ نے کہا کہ ٹونی بلیئر کابینہ نے آئین کے مطابق کام نہیں کیا تھا۔
Post New Comment