چھبیس نومبر دو ہزار آٹھ کو اچانک ممبئی کے مختلف مقامات پر فائرنگ اور دھماکوں نے بھارت کو ہلا کر رکھ دیا۔ تین دن تک جاری رہنے والے ان حملوں میں چالیس کے قریب غیر ملکیوں سمیت ایک سو اڑسٹھ افراد ہلاک ہوئے جبکہ دس میں سے نو حملہ آور بھی مارے گئےاور ایک حملہ آور اجمل قصاب کو زندہ گرفتارکر لیا گیا ۔ بھارتی حکام اور میڈیا نے حملوں کے آغاز سے ہی پاکستان کے ملوث ہونے کی رٹ لگانی شروع کردی اور بہت جلد لشکرطیبہ ، جماعت الدعوۃ اور حافظ سعید کا نام بھی بھارتی میڈیا میں گونجنے لگا۔ بھارت نے پاکستان سے مذاکراتی عمل منسوخ کر دیا اور جنگ کی دھمکیاں دی جانے لگیں۔ اسی دوران اقوام متحدہ نے جماعت الدعوہ کو دہشت گرد تنظیم قراردیا اور پاکستان نے ممبئی حملوں کے الزام میں لشکر طیبہ کے امیر ذکی الرحمٰن لکھوی سمیت متعدد افراد کو گرفتار کرلیا اس کے باوجود بھارت نے ممبئی حملوں کی آڑ میں پاکستان مخالف پروپیگنڈہ جاری رکھا ۔ پاکستان کو مختلف دستاویزات دی گئیں ۔ جن میں حافظ سعید سمیت چونتیس افراد کی حوالگی کے مطالبات بھی سامنے آئے ۔ ممبئی حملوں کے بعد امریکہ بھارت تعلقات میں بہتری آئی اور بھارت افغانستان میں اتحادی افواج کی مدد پر تیارہو گیا۔ بھارت نے ممبئی حملوں کو کشمیر کی جدوجہد آزادی سے توجہ ہٹانے کے لیے بھی استعمال کیا اورہر قسم کے مذاکرات سے انکار کرتا رہا ۔ ممبئی حملوں کے بعد دو مرتبہ پاک بھارت وزرائے اعظم ملاقات بھی ہوئی تاہم ابھی تک دونوں ممالک کے تعلقات معمول پر نہیں آ سکے ۔ دوسری جانب پاکستان کا موقف ہے کہ دونوں ممالک کو کشمیر، پانی سمیت دیگر دیرینہ مسائل پر توجہ دینی چاہیے تاکہ غیر ریاستی عناصر دوبارہ کشیدگی پیدا نہ کرسکیں ۔ ممبئی حملے ڈیڑھ سال گزرنے کے بعد بھی بھارتی قیادت کے اعصاب پر سوار ہیں اور بھارتی قیادت یہ سمجھنے سے گریزاں ہے کہ اگر اس کشیدگی کا خاتمہ نہ ہوا تو نہ صرف برصغیر کے کروڑوں عوام کو نہ صرف حالت جنگ جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے بلکہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ بھی متاثر ہو سکتی ہے
Post New Comment