فلسطینی رہنما محمود عباس اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کے درمیان بیس ماہ بعد پہلی بار براہ راست بات چیت کا آغاز امریکی کوششوں سے ہورہا ہے ۔ امریکی صدر باراک اوباما نے دونوں رہنماؤں پرزور دیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدارامن کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا جائے ۔اس سے قبل فلسطینی صدر، اسرائیلی وزیراعظم ، مصر کے صدر حسنی مبارک اور اردن کے شاہ عبداللہ نے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر کی جانب سے دیئے گئےعشائیے میں بھی شرکت کی ۔ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدراوباما نے محمود عباس اور نیتن یاہو کی مذاکرات کی کوشش کو سراہا اور کہا کہ دونوں رہنما امن کے خواہاں ہیں ۔ نیتن یاہو نے کہا کہ وہ واشنگٹن آنے کا مقصد محض بحث نہیں بلکہ قیام امن ہے ۔ فلسطینی صدرمحمود عباس کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے تعاون سے مشرق وسطیٰ میں ایک سال کے اندر امن قائم ہوسکتا ہے ۔ اس موقع پرانہوں نے تنبیہہ کی کہ اگر چھبیس ستمبر تک مغربی کنارہے پراسرائیلی بستیوں کی تعمیر نہ روکی گئی تو مذاکرات تعطل کا شکار ہوسکتے ہیں۔ وائٹٓ ہاؤس میں ملاقات کے موقع پر فلسطینی صدر محمود عباس اوراسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے مصافحہ بھی کیا۔
Post New Comment