کابل (انٹرنیشنل ڈیسک) طالبان کے گڑھ صوبہ ہلمند کے علاقے مرجاہ میں اوباما انتطامیہ کے احکامات کے تحت شروع کئے گئے بڑے آپریشن سے دو روز قبل افغانستان میں امریکہ اور نیٹو فورسز کے کمانڈر جنرل سٹینلے میک کرسٹل نے 450 قبائلی عمائدین کا اجلاس بلایا، اس اقدام کا مقصد اس آپریشن کیلئے عوامی حمایت حاصل کرنا تھا۔ اس بڑے آپریشن میں 6000 امریکی میرینز اور برطانوی فوجیوں کے علاوہ 4500 افغان فوجی اور پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ ”ٹائم“ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق نیٹو کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے تاہم زیادہ تر قصبے امریکی فوج کے کنٹرول میں آ گئے ہیں۔ برطانوی فوج نے بھی کچھ علاقوں پر قبضہ کیا۔ جریدہ کے مطابق سرحد پار سے اچھی خبر یہ تھی کہ کراچی میں سی آئی اے اور پاکستانی ایجنسی (آئی ایس آئی) نے مل کر ایک بڑی مچھلی طالبان کے ملٹری چیف ملا عبدالغنی برادر کو قابو کیا۔ اس کے علاوہ افغانستان کے دو شیڈو گورنر بھی پکڑے گئے۔ اس کے ساتھ شمالی وزیرستان میں حقانی نیٹ ورک پر ہونے والے ڈرون حملے میں اگرچہ سراج الدین حقانی تو بچ گئے مگر ان کے چھوٹے بھائی جاں بحق ہو گئے۔ جریدہ کے مطابق اوباما انتظامیہ کی صبر و تحمل کی ایف پاک پالیسی کے تحت میک کرسٹل کی فوجوں کو مغربی افواج کے ذریعے محض طالبان کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ افغانستان کی تعمیرنو میں مدد دینے کا عہد کرنا چاہئے۔ مرجاہ کا معرکہ ان کے لئے پہلے حقیقی ٹیسٹ کیس رکھتا ہے۔
Post New Comment