تہران (اے ایف پی) ایران نے تین امریکیوں کو رہا کرنے کے حوالے سے امریکی صدر باراک اوباما کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھا جائے گا۔ تینوں امریکیوں کو تقریباً گزشتہ برس 31 جولائی کو عراق سرحد کے قریب جاسوسی کے الزام کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ وہ تینوں ہائیکنگ کررہے تھے کہ ایرانی سرحد میں داخل ہوگئے تھے تاہم ایران کو شک ہے کہ وہ امریکہ کیلئے جاسوسی کررہے تھے اور عراقی سرحد پارکرکے ایران کے مرکزی شہروں میں داخل ہونا چاہتے تھے۔ان امریکی شہریوں کی گرفتاری کے بعد دونوں ممالک کے مابین تعلقات انتہائی کشیدہ ہوگئے تھے جو پہلے ہی ایران کے ایٹمی پروگرام کے معاملے پر کشیدگی کی حدوں کو چھو رہے تھے۔ ایران کے نیم سرکاری خبرساں ادارے سے بات چیت کرتے ہوئے ایران کے نائب وزیر داخلہ رمیم مہمان فراست نے بتایا کہ یہ معاملہ عدالت میں زیرسماعت ہے اور اس حوالے سے انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے کوئی دباﺅ قبول نہیں کیا جائیگا۔ امریکی صدر بارک اوباما نے جمعہ کے روز تینوں امریکیوں کی ایرانی حراست میں ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر جاری کردہ بیان میں کہا تھا کہ تینوں امریکی شہریوں نے کوئی جرم نہیں کیا اور انہیں غیرقانونی طور پر حراست میں رکھنے سے انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔
Post New Comment