تازہ ترین:

65 فیصد ایکسائز ٹیکس :100 سے زائد سینما گھروں کا وجود خطرے میں

ـ 9 فروری ، 2010
  • Adjust Font Size

لاہور (کلچرل رپورٹر) محکمہ ایکسائز کی بے حسی اور سیاستدانوں کی وعدہ خلافی سینما انڈسٹری سے وابستہ ہزاروں لوگوں کی جان لے لے گی اور سو سے زیادہ سینما گھروں کا وجود ختم ہو جائیگا۔ ان خیالات کا اظہار سینما مینجمنٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین قیصر ثناءاللہ خان نے کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب بھر کے سینما گھروں کو سینما لائسنس کی سالانہ تجدید کیلئے محکمہ ایکسائز سے این او سی درکار ہے جوکہ محکمہ ایکسائز تفریحی برانچ نے کسی سینما کو نہیں دیا۔ محکمہ ایکسائز کا موقف ہے کہ ماہ جولائی 2009ءسے ہم نے سینما گھروں پر 65% ایکسائز ٹیکس لگا دیا ہے جبکہ تمام سینما انڈسٹری کا مشترکہ موقف ہے کہ پنجاب گورنمنٹ نے سینما گھروں پر تفریحی ٹیکس لاگو کرنے کا ابھی تک نوٹیفکیشن جاری ہی نہیں کیا جبکہ محکمہ ایکسائز نے اپنی طرف سے 65% ایکسائز ٹیکس نافذ کر دیا ہوا ہے۔ قیصر ثناءاللہ خان نے کہا کہ خادمِ اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے ہمارے وفد سے وعدہ کیا تھا کہ ہمارے سینما گھروں کو ریلیف دیا جائیگا۔ سنیٹر پرویز رشید نے کہا تھا کہ سینما گھروں کو ٹیکس چھوٹ کے علاوہ سینما دیکھنے والے شائقین کو حکومت پنجاب کی جانب سے ایک کولڈ ڈرنک بھی پیش کی جائیگی۔ فحش پوسٹر اور فحش پرنٹ جلانے کی تقریب کے دوران ایم پی اے نے فرح دیبا کی موجودگی میں وزیراعلیٰ کے میڈیا کوارڈینیٹر ایم پی اے خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ 72 گھنٹوں میں تفریحی ٹیکس کا مسئلہ حل ہو جائیگا۔ اس بات کو بھی کئی ماہ گزر گئے۔ 22 جنوری 2010ءکو وزیر قانون رانا ثناءاللہ خان نے فلمی تقریب میں یہ وعدہ کیا کہ دو تین روز میں تفریحی ٹیکس ختم کر دیا جائیگا۔ اس بات کو بھی دو تین ہفتے گزر گئے ہیں لیکن وعدہ وفا نہ ہوا۔
محکمہ ایکسائز کی جانب سے سینما گھروں کو این او سی نہ ملنے کی وجہ سے بڑی تشویش پائی جاتی ہے۔ سیکرٹری اکیسائز، ڈی جی ایکسائز خادمِ اعلیٰ شہباز شریف سے اپیل ہے کہ سینما گھروں کے فتریحی ٹیکس کی چھوٹ کے نوٹیفکیشن کو آئندہ دس سال کیلئے یکم جولائی 2009ءسے جاری کیا جائے اور محکمہ ایکسائز کو ہدایت کی جائے کہ تمام سینما گھروں کو این او سی جاری کیا جائے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions