آبیانہ‘ سٹمپ ڈیوٹی‘ پروفیشنل ٹیکس‘ میوٹیشن فیس میں اضافے کی تجاویز‘ لگژری گاڑیوں پر ٹیکس کم کرنے کی تجویز دی گئی

ـ 31 جنوری ، 2010
  • Adjust Font Size

لاہور (معین اظہر سے) حکومت نے آئندہ سال میں سرکاری سطح پر ٹیکس نیٹ بڑھانے اور تقریباً 5 سے 10 ارب روپے کے نئے‘ پرانے ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں میں اضافے کی تجاویز تیار کر لی ہیں، ریکوری بہتر بنانے کے لئے ٹیکس اکٹھاکرنے والے ملازمین کو سپیشل مراعات کا پیکج تیار کیا جارہا ہے اس حوالے سے تجاویز تیار کی گئی ہیں۔ ان تجاویز کے تحت میوٹیشن، سٹمپ ڈیوٹی‘ ایگرکلچرل انکم ٹیکس کی شرح، آبیانہ کے ریٹ، انسپکٹر آف سٹمپ بورڈ آف ریونیو میں اضافے، لگژری گاڑیوں پر ٹیکس کم کرنے، ایکسائز کی مختلف کیٹیگری میں ٹیبل ریوائز کرنے، پروفیشنل ٹیکس کی شرح میں اضافہ کرنے کی تجاویز دی گئی ہیں انہیں حتمی شکل دینے کے لئے جلد پنجاب ریسورس موبائلزیشن کمیٹی کا اجلاس ہوگا اس میں حتمی شکل کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب کو بریفنگ دینے اور ان سے منظوری کے بعد کے بعد ان کو آئندہ سال کے بجٹ میں شامل کر لیا جائے گا۔ حکومت پنجاب نے موجودہ مالی سال کے دوران ٹیکسوں کی شرح میں کم وصولیوں پر آئندہ مالی سال میں وصولیوں کا ہدف پورا کرنے کے لئے متعدد اقدامات کا فیصلہ کیا ہے‘ ٹیکس وصولیوں میں بہتر کام کرنے والے افسروں اور ملازمین کے لئے مالی پیکیج تیار کیا جارہا ہے جس کے تحت ان کو 100 فیصد ریکوری پر مالی بونس دئیے جائیں گے، 60 سے 85 فیصد تک ریکوری کرنے والوں کو رقم دی جائے گی جبکہ50 فیصد کے کم وصولی کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں جن ٹیکسوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے ان کے مطابق میوٹیشن فیس کی شرح 4 فیصد کی جارہی ہے‘ اس میں شہری اور دیہی علاقوں کا فرق ختم کردیا جائے گا اس وقت شہری علاقوں میں میوٹیشن 4 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں یہ تین فیصد تھی اور اس کو لینڈنڈ پراپرٹی پر بھی لاگو کیا جائے گا، اس کے ساتھ ایک اور تجویز بھی ہے کہ اس کی شرح پانچ فیصد کر دی جائے۔ جس سے حکومت کو سالانہ ایک ارب روپے کی آمدنی ہوگی۔ اس کے علاوہ سٹمپ ڈیوٹی کے ویلیوایشن ٹیبل کو تبدیل کیا جارہا ہے اس سے قبل گذشتہ سال سندھ حکومت نے اسے تبدیل کیا اس کے سیکشن 29 میں شق بی کا اضافہ کر کے اسے ریوائز کیا جائے گا۔ اس میں پانچ فیصد تک اضافہ کیا جائے گا جس سے حکومت پنجاب کو سالانہ تقریباً 25 سے پچاس کروڑ روپے اضافی حاصل ہونگے۔ اس کے علاوہ ایگرکلچرل انکم ٹیکس کی شرح کو بھی ریوائز کیا جارہا ہے تاہم اس میں چھوٹے کاشتکاروں کو جو چھوٹ حاصل ہے وہ جاری رہے گی ، اس کی شرح میں اضافے سے پچاس کروڑ سے ایک ارب روپے کی اضافی آمدن متوقع ہے۔آبیانہ کی شرح میں تقریباً پانچ سے دس فیصد اضافہ متوقع ہے اس کے جو رقم آئے گی اس سے آبی منصوبے شروع کئے جائیں گے تاکہ پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے کام ہوسکے۔ انسپکٹر آف سٹمپ بورڈ آف ریونیوکے دفتر کی ری آرگنائزیشن کی جارہی ہے۔ لگژری گاڑیوں پر ٹیکس کم کرنے کی تجاویز میں کہا گیا ہے کہ لوگ دوسرے صوبوں میں گاڑیاں رجسٹرڈ کرا رہے ہیں جس کی وجہ سے پنجاب کو شدید نقصان ہورہا ہے۔ ذرائع کے مطابق پروفیشنل ٹیکس کی شرح میں بھی اضافہ کیا جارہا ہے۔
ٹیکس/ ڈیوٹیاں

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions