گندم کی کٹائی کے بعد سب سے اہم مسئلہ اسے سنبھالنے کا ہوتا ہے۔ جس میں کسان ان دنوں مصروف ہیں۔ بیس اپریل سے حکومت گندم کی خریداری تو کررہی ہے مگر کسانوں کے لئے باردانہ مطلوبہ تعداد میں موجود نہیں ہے۔ انہیں مجبوراً سستے داموں گندم آڑھتیوں کو فروخت کرنا پڑرہی ہے۔ جس پر کسان مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو گندم کی خریداری میں غیر سنجیدہ قراردیتے ہیں۔
صرف باردانے ہی کا مسئلہ نہیں۔ کسانوں کو گندم دیہاتی علاقوں میں قائم خریداری مراکز میں بیچنا پڑتی ہے لیکن انہیں قیمت دوردراز شہری علاقوں میں قائم بینک آف پنجاب سے وصول کرنا ہوتی ہے جہاں کسانوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے نام کا اکاونٹ کھلوائیں۔
کسانوں کا اضطراب اپنی جگہ حکومتی اہلکار کسی قسم کی ذمے داری لینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ باردانے کا مسئلہ ہے اور نہ اکاونٹ کھلوانا ضروری ہے۔
ہر سال حکومت کی طرف سے مناسب اقدامات کے دعوے کئے جاتے ہیں مگر زمینی حقائق اس کی تصدیق نہیں کرتے۔ جس کی وجہ سے کسان ہر بار نئی امید لے کر آئندہ سال کا انتظار کرتے ہیں۔
Post New Comment