ایل پی جی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کیخلاف ایسوسی ایشن کا 31 اگست کو ہڑتال کا فیصلہ

ـ 23 اگست ، 2010
  • Adjust Font Size

لاہور (سٹاف رپورٹر) پاکستان میں ایل پی جی انڈسٹری پر با اثر گیس مافیا کے قبضے اور آئے دن قیمتوں میں من پسند اضافے نے عام صارفین کا جینا محال کر دیا ہے جبکہ ایل پی جی صارفین کی بدحالی پر حکومت، وزارت پیٹرولیم اور اوگرا بالکل خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اور انہوں نے گیس مافیا کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے ہیں۔ دوسری طرف سیلاب زدہ علاقوں میں لوگوں کو سحری میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد عرفان کھوکھر نے کہا کہ31 اگست کی ہڑتال کے لئے کمیٹیوں کا اعلان 29 اگست کو کیا جائے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گیس مافیا سے گزشتہ چار برسوں میں 300 ارب کی لوٹی گئی قومی دولت وصول کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ 31اگست سے قبل ایل پی جی مافیا کیخلاف کارروائی نہ کی گئی اور قیمتوں کو کم نہ کیا گیا تو ملک گیر ہڑتال کا فیصلہ اٹل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ایل پی جی کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کر رہی ہیں جبکہ گلگت‘ سوات فاٹا میں نایاب ہو گئی ہے جہاں گیس 155/160روپے فی کلو اور گھریلو سلنڈر 1800روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ راولپنڈی، اسلام آباد، بہاولپور، رحیم یار خان، راجن پور، ڈیرہ غازی خان، کشمور، صادق آباد، حیدرآباد، میر پور، مظفر آباد اور کشمیر میں گیس 130/135روپے فی کلو اور گھریلو سلنڈر 1500میں فروخت ہو رہا ہے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions