لاہور (سٹاف رپوٹرر) ٹریکشن موٹرز اور بیٹریوں جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم پاکستان ریلوے کی فریٹ سروس کے انجنوں کا روزانہ فیل ہونا معمول بن چکا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف گڈز ٹرینیں بروقت اپنی منزل مقصود پر نہیں پہنچ پاتیں بلکہ ان کے سفری دورانیے میں بھی کئی گھنٹوں کا اضافہ ہو جاتا ہے اس پر ریلوے کو ڈیزل کی ترسیل کا مسئلہ بھی معمے کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ ریلوے کے پاس کبھی ایک ماہ کا تیل سٹاک ہوتا تھا جو اب مالی بدحالی کے باعث ایک سے دو دن تک آ پہنچا ہے جبکہ مال گاڑیوں پر میل اور ایکسپریس ٹرنیوں کو کراسنگ میںترجیح دینا بھی فریٹ ٹریٹ سروس کے فیل ہونے کی وجوہات میں سے ایک ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان ریلوے کی فریٹ سروس کے تحت 125 انجن کام کر رہے ہیں ان میں سے 46 انجنوں میں 6 ٹریکشن موٹریں‘ 49 میں 4‘ 11 انجنوں میں 5 اور 4 انجنوں میں 3 موٹریں لگی ہوئی ہیں جبکہ 15 انجن زیر مرمت ہیں جبکہ ان میں سے اکثر انجنوں کو بیٹریاں نہ ہونے کے باعث چالو حالت میں کئی کئی گھنٹے رکھا جاتا ہے جس کی وجہ سے ریلوے کے تیل کے اخراجات میں ماہانہ کروڑوں روپے کا اضافہ ہو رہا ہے۔ ریلوے کی فریٹ سروس کے تحت 3000‘ 2400‘ 2000 اور 1500 ہارس پاور کے مختلف اقسام کے انجن زیر استعمال ہیں۔ ریلوے انجینئرز کا کہنا ہے کہ اگر حکومت موجودہ ریلوے فلیٹ کی ٹریکشن موٹریں اور بیٹریاں مکمل کر دے تو اس پر صرف ایک ارب کے اخراجات آئیں گے جس کے نتیجے میں ان انجنوں کو مزید 5 برس تک چلایا جا سکتا ہے۔
Post New Comment