لاہور (کامرس رپورٹر/ ایجنسیاں) وفاقی وزیر خوراک و زراعت نذر محمد گوندل نے آئندہ سال کے لئے سورج مکھی کی قیمت 1300روپے سے بڑھاکر 1600روپے فی من مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پریس کانفرنس کے موقع پر پنجاب کے سینئر وزیر راجہ ریاض‘ وفاقی سیکرٹری خوراک و زراعت ضیاء الحسن‘ ایم ڈی پاسکو میجر جنرل انور سعید اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام موجود تھے۔ وفاقی وزیر خوراک و زراعت نے کہا کہ اس سال سورج مکھی کاشت کرنے کے لئے گیارہ لاکھ ایکڑ رقبے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ سیڈ کمپنیوں نے اس کے لئے 22سو ٹن بیج فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے کہاکہ خوردنی تیل کی پیداوار میں اضافے کے لئے آئل سیڈ ڈویلپمنٹ بورڈ قائم کیا گیا ہے‘ پام آئل کی درآمد پر حکومت 2ارب ڈالر سالانہ خرچ کرتی ہے‘ سورج مکھی کی 11لاکھ ایکڑ پر کاشت سے 8لاکھ ٹن پیداوار ہو گی جس سے 2لاکھ86ہزار ٹن تیل حاصل ہو گا اور سالانہ 36کروڑ ڈالر کی بچت ہو گی۔ انہوں نے کاشت کاروں سے اپیل کی کہ وہ زیادہ سے زیادہ سورج مکھی کاشت کریں۔ پاسکو انہیں سہولتیں میہا کرے گا۔ دوسری جانب کسان تنظیموں نے سورج مکھی کی قیمت 1600روپے مقرر کرنے کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی وزارت خوراک و زراعت کسان تنظیموں سے مشاورت کرکے کم از کم قیمت 2000روپے فی من مقرر کرے۔ ایگری فورم پاکستان کے چیئرمین ابراہیم مغل نے کہاکہ ایک من سورج مکھی کی کاشت پر کسانوں کی لاگت 1850روپے ہے وہ کےسے 1600روپے میں سورج مکھی فروخت کریں گے۔ کم از کم قیمت 2000ہونی چاہئے 3سال قبل ایک من سورج مکھی 1800روپے میں فروخت ہوتا تھا اس وقت ڈیزل‘ کھاد و بیج کی قیمتیں آج کے مقابلے میں 25فیصد کم تھیں۔ متحدہ کسان محاذ کے صدر ایوب میو نے کہاکہ حکومت کی ناقص زرعی پالیسیوں کے باعث سورج مکھی کی کاشت کا رقبہ 5.5لاکھ ایکڑ رہ گیا ہے جو 2007ء میں 10.5لاکھ ایکڑ تھی۔ 1600روپے سے کسان خسارے میں رہے گا‘ فارمرز ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر حامد ملہی نے کہاکہ حکومت نے انتہئای کم قیمت مقرر کی ہے جس سے اسکی لاگت بھی پوری نہیں ہو گی‘ کم از کم قیمت 2ہزار روپے مقرر کرے۔
سورج مکھی/ قیمت
Post New Comment