لاہور (اپنے نمائندے سے) حکومت پنجاب کی طرف سے پہلے مرحلے میں 26 کالجز کی نجکاری اوراعلیٰ تعلیم کو پرائیوٹائز کرنے کے مسئلہ پر غور کےلئے اساتذہ کی مختلف تنظیموں، پنجاب پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن، گورنمنٹ سکولز سیز سٹاف ایسوسی ایشن کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں PPLA کے مرکزی صدر ڈاکر زاہد شیخ، سیکرٹری جنرل سید تنویر شاہ، پروفیسر اسحاق اظہر، ایس ایس اے صدر حافظ عبدالناصر، ایس ای ایس کے صدر رانا سلطان محمود اختر، میاں انوارالحق اطہر، ریاست علی کلو اور دیگر کئی عہدیداران نے شرکت کی۔ اجلاس میں نجکاری کے منصوبے کو عوام پر اعلیٰ تعلیم کے دروازے بند کرنے اور استا کو بے وقار کرنے کا انتہائی ناعاقبت اندیشانہ اقدام قرار دیا گیا۔ نجکاری کے پردے میں کالج ایجوکیشن جو ملک کی تعمیروترقی میں ریڑھ کی حیثیت رکھتی ہے کو توڑنے بلکہ ختم کرنے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے۔ فرسٹ ایئر کی تیس تین ہزار سے بڑھ کر پچاس ہزار ہو جائے گی جبکہ ایف ایس سی کی فیس ایک لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ اس لئے ہم اس منصوبے کو مسترد کرتے ہیں۔ اجلاس میں 39 سو اساتذہ اور 26 سو یگر سٹاف کو فارغ کرنے کی مذمت کی گئی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام اساتذہ تنظیموں، طلبہ تنظیموں، سول سوسائٹی اور والدین کو ساتھ ملا کر جلد ہی پنجاب بھر میں ”تعلیم بچاﺅ تحریک“ کا آغاز کیا جائے گا اور معاشرے کے تمام طبقات کو حکومت کے اس تعلیم دشمن اقدام سے آگاہ کیا جائے گا۔ تعلیم بچاﺅ تحریک کا آئندہ اجلاس 20 جون اتوار کو لاہور میں ہوگا۔ جس میں عملی اقدامات کا اعلان کیا جائے گا۔ نجکاری کے مسئلہ پر پنجاب پروفیسرز ایسوسی ایشن کی مرکزی ایگزیکٹو کا اجلاس 16 جون کو گورنمنٹ اسلامیہ کالج سول لائنز لاہور میں طلب کر لیا گیا ہے۔
Post New Comment