لاہور (نیوز رپورٹر) پنجاب بھر کی کسان تنظیموں کی جانب سے ارسا کی جانب سے پنجاب کے حصے کا پانی کم کرنے اور بند کرنے پر احتجاج جاری ہے۔ایگری فورم پاکستان کے چیرمین ابراہیم مغل ،کسان بورڈ پاکستان کے صدرسردار ظفر حسین کا کہنا ہے کہ چشمہ جہلم لنک کینال کے بند ہونے سے 6 لاکھ ایکڑ کینولہ ،7 سے 8 لاکھ ایکڑ مکئی، 10 لاکھ ایکڑ گنا اور سورج مکھی کی4 سے 5لاکھ ایکڑ سمیت گندم کی فصل شدید متاثر ہوگی۔ جس کی وجہ سے ملک میں ایک بار پھر چینی اور کھانے کے تیل کا شدید بحران پیدا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبوں کے درمیان پانی کا مسئلہ انتہائی حساس صورت حال اختیار کر چکا ہے۔ ایک طرف تو بھارت پاکستان کے پانیوںپر قبضہ کر رہا ہے دوسری جانب ہمارے حکمران صوبوں کے درمیان پانی کے تنازعات کو حل نہیں کر رہے۔ پاکستان کے اندر جب 1991 کا معاہدہ پانی موجود ہے تو اس پر عمل درآمد کرنے میں سندھ کو کیا اعتراج ہے۔ ان کایہ بھی کہنا تھا کہ اگر چشمہ جہلم لنک کنا ل کو بندکر دیا گیا تو اس ملک میں نہ ختم ہونے والاغذائی بحرن بھی جنم لے گا اور اشیائے خردونوش کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو گا۔ کسان ماہرین کا مطالبہ تھا کہ ارسا سرکاری تنظیم ہے اس کے کردار کو موثر بنایا جائے۔
Post New Comment