اسلام آباد (عترت جعفری) سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین اور وزیر مملکت سلیم مانڈوی والا نے کہا ہے کہ خصوصی معاشی زونز کے متعلق مسودہ قانون کابینہ میں پیش کر دیا جائے گا‘ سرمایہ کاری کی وزارت ختم کرکے بی او آئی کو براہ راست وزیراعظم کی نگرانی میں دے دیا گیا امریکہ کے نائب وزیر دفاع بڑی امریکی کمپنیوں کے ایک وفد کے ہمراہ پاکستان آئیں گے۔ سلیم مانڈوی والا نے ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز ”نوائے وقت“ کو انٹرویو میں کہا کہ حکومت کو سسٹم بدلنا پڑے گا موجودہ نظام میں کچھ بھی کرنا ممکن نہیں معیشت کے متعلق جتنی بھی وزارتیں ہیں ان میں بیورو کریسی کی کوئی افادیت نہیں ان کے بس کی بات نہیں ان وزارتوں میں ٹیکنو کریٹ تعینات کے جائیں‘ پرائیویٹ سیکٹر سے تعلق رکھنے والے افراد سیکرٹری کے عہدے پرفائز ہونا چاہئیں‘ ملک کو اب روائتی طریقہ کار سے نہیں چلایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی کمپنی جنرل الیکٹرک 50 سال سے کام کر رہی ہے 160 ملکوں میں اس کا نیٹ ورک ہے اس بڑے ادارے کے ساتھ ایم او یو کا مسودہ مختلف وزارتوں میں گھومتا رہا ہے اب بھی صدر اور وزیراعظم کی دلچسپی کی وجہ سے یہ ایم او یو حقیقت بنا ہے انہیں ذاتی طور پر اس ایم او یو کو حتمی شکل دلانے میں ڈیڑھ ماہ لگ گیا‘ اس کی وجہ کیا تھی؟ مختلف ادارے اس ایم او یو کے مسودہ کو اس لئے دبائے بیٹھے تھے کہ حکومت کو کسی پرائیویٹ ادارے کے ساتھ ایم او یو پر دستخط نہیں کرنے چاہئیں‘ انہوں نے کہا کہ جنرل الیکٹرک ریلویز کو بہتر بنا سکتی ہے اس نے منگلا اور تربیلا ڈیم کے ٹربائن تبدیل کرنے کی پیشکش کی تھی اور کہا کہ وہ سرمایہ کاری بھی خود ہی کر دے گی لیکن کوئی ٹینڈر نہیں ہوگا‘ ملک میں صرف 32 ڈیم ہیں‘ 40 سال سے کوئی ڈیم نہیں بنا سکے انہوں نے کہا کہ خصوصی معاشی زون میں بننے والی صنعتوں کے لئے مراعات ہوں گی‘ انہوں نے کہا کہ کراچی میں جاپان کے اقتصادی زون کے لئے سندھ حکومت نے زمین کی نشاندہی کر دی ہے‘ انہوں نے کہا کہ اب تک ملک میں ایک بلین ڈالر سے زائد کی غیر ملکی سرمایہ کاری ہو چکی ہے جبکہ 30 جون تک 2 بلین ڈالر تک ہونے کی توقع ہے موجودہ حالات میں یہ بڑی نہیں ہے۔
Post New Comment