لاہور(کامرس رپورٹر) صوبائی وزیر خزانہ و پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ تنویر اشرف کائرہ نے کہا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی طرح پنجاب میں ٹیکس وصول کرنے کےلئے صوبائی سطح پر اسی طرز کا بورڈ آف ریونیو بنانے کی تجویز زیر غور ہے اور ٹیکس جمع کرنے والے تمام اداروں کے نظام کو سادہ بنانے کی ضرورت ہے تاکہ صنعت کار اور تاجر برادری آرام سے ون ونڈ و آپریشن کے تحت اپنے ٹیکس جمع کروا سکیں۔ صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ آئین کی پاسداری کرنا ہر ادارے پر مقدم ہے اور اگر ہم بحیثیت قوم اپنے فرائض ایمانداری سے سرانجام دیں اور ملک میں جمہوریت تسلسل کے ساتھ چلتی رہتی تو آج ہم دیگر ترقی یافتہ اقوام عالم کے ساتھ کھڑے ہوتے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ملک کو بہتری کی طرف لے کر جانا ہے اور ایسی اقتصادی پالیسی تشکیل دینی ہے جو لانگ ٹرم ہو۔ہمیں اپنے اخراجات پر قابو پانا ہے اور عوام کو سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ریونیو میں اضافہ بھی کرنا ہے۔
۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں اساتذہ کی بھرتی میرٹ پر ہو ئی ہے اور ہم ان اساتذہ کو جدید علوم کی تربیت بھی دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کا پیسہ عوام کی فلاح و بہبود پر ہی خرچ کیا جائے گا اور اس میں کسی کو کرپشن کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ وزیر خزانہ پنجاب نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران ہماری معیشت کو 35 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے جبکہ اس دوران صرف 10 ارب ڈالر کی غیر ملکی امداد ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم آئی ایم ایف سے قرضہ نہ لیتے تو ہم دیوالیہ ہو سکتے تھے ۔تاہم اب معیشت درست سمت پر گامزن ہے اور ہم بحران سے باہر نکل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے پچھلے مالی سال کے دوران غریب پرور اقدامات کے لئے 22 ارب روپے کی ریکارڈ سبسڈی فراہم کی۔ جبکہ اس سال سبسڈی کی رقم30 ارب روپے کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا پرانی پرانی سڑکوں کا نیٹ ورک بہتر بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت توانائی کے بحران سے نمٹنے کےلئے ہنگامی اقدامات کر رہی ہے اور حالیہ بارشوں سے بجلی کی ہائیڈل پیداوار میں اضافہ ہوگا۔
Post New Comment