لاہور (ندیم بسرا سے/ نیوز رپورٹر) ملک میں آئے روز پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے زراعت کی پیداواری شرح میں سالانہ 11 فیصد کمی ہورہی ہے۔ اس سے مستقبل میں ملکی خوراک کی ضروریات اور زراعت کے برآمد آرڈرز بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ ڈیزل مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے باعث پنجاب میں زراعت پیشہ افراد پر 35 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑےگا اور زرعی اجناس کی قیمتوں میں 50 روپے سے400 روپے من کا اضافہ ہوگا۔ زراعت کے شعبہ میں سالانہ ساڑھے 3 ارب لٹر ڈیزل استعمال ہوتا ہے۔ قیمتوں میں اضافے کے باعث کسانوں کو اس مد میں 15 ارب روپے اضافی خرچ کرنا پڑینگے۔ 12کروڑ یوریا بو ری کسانوں کی سالانہ ضرورت ہوتی ہے۔ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے 775 روپے والی یوریا بوری کی قیمت میں میں 100 روپے کا اضافہ ہوگیا ہے اور اب یہ 885 روپے تک جا پہنچی ہے۔ اس طرح اس مد میں کسانوں کو 12ارب روپے اضافی ادا کرنا ہونگے۔ ادھر گندم خریداری کی جاری مہم میں ابھی تک 20لاکھ ٹن گندم 100 روپے من کم قیمت پر خریدی گئی ہے۔ یوں کسانوں کو 8 ارب روپے کا نقصان ہوچکا ہے۔ ملکی خوارک کا 70 سے 75 فیصد تک ضروریات پوری کرنے والے پنجاب کے کسان برآمدات کا بھی بڑا حصہ فراہم کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نہروں میں پانی کی عدم دستیابی ،ٹیوب ویل نہ چلنے اور زرعی اجناس کی قیمتوںمیں مسلسل اضافے سے زراعت کی سالانہ گروتھ میں12فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ اس لئے حکومت کسانوں کیلئے جلد زیادہ سے زیادہ مراعات کا اعلان کرے۔
Post New Comment