لاہور(کامرس رپورٹر)کاروباری برادری نے یکم اپریل سے بجلی کے نرخوں میں اضافے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے معیشت پر سخت منفی اثرات مرتب ہونگے، عام آدمی سمیت صنعت اور زراعت بُری طرح متاثر ہو گی، پاکستان کی برآمدت کا ہدف پورا نہیں ہو گا، مہنگائی، غربت اور بےروزگاری میں اضافہ ہو گا۔ ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر حمید اختر چڈھا نے کہا کہ یہ فیصلہ صنعت و تجارت کو بحران سے دوچار کر دے گا۔ خدشہ ہے کہ انڈسٹری بند ہو جائے گی جس سے لاکھوں مزدور بے روزگار ہو جائیں گے، دہشت گردی میں اضافہ ہو سکتا ہے، حکومت فوری طور پر بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ واپس لے ورنہ عوام سڑکوں پر نکل آئےں گے، آئی ایم ایف اور عالمی بنک کی کڑی شرائط پوری کرتے کرتے ملکی صنعت اور عوام کا جینا مشکل بن چکا ہے۔ قرضوں کا حجم بڑھنے کے ساتھ ساتھ کرپشن اور حکومتی اخراجات میں بے تحاشا اضافہ ہو چکا ہے۔ حکومتی اداروں میں کرپشن اور اخراجات کم کرکے ملک بچاﺅ مہم شروع کرنے کی اشد ضرورت ہے، مہم کو نتیجہ خیز اور قابل تقلید بنانے کے لیے ایوان صدر اور وزیر اعظم ہاﺅس کے بجٹ میں قابل لحاظ کمی کی جائے ۔ پیاف کے چیئرمین عرفان قیصر شیخ نے کہا کہ بجلی کے نرخ اب تک ملکی صنعت اور عوام کے لیے ناقابل برداشت ہو چکے ہیں ۔ مزید اضافہ سے عام آدمی کے لیے گھریلو بل ادا کرنا اور صنعتوں کی پیداواری لاگت بڑھنے سے بین الاقوامی مارکیٹ میں ان کا فروخت ہونا دشوار ہو جائے گا ۔ بجلی گیس کی لوڈ شیڈنگ اور اونچے ترین ٹیرف کی وجہ سے ہزاروں صنعتی یونٹ بند ہو چکے ہیں۔ عرفان قیصر شیخ نے کہا کہ مشیر خزانہ نے یہ نہیں بتایا کہ کئی ماہ کا اکٹھا بل عام آدمی کیسے ادا کرے گا ۔ پیاف کے چیئرمین نے کہا کہ حکومتی ذمہ داراں کو شاید ملکی صنعت کی ضروریات اور عام آدمی کی مشکلات کا ادراک نہیں ۔ عالمی مالیاتی اداروںسے حاصل کردہ قرضوں سے بجلی اور گیس کی پیداوار بڑھانے صنعتوں اور عوام کو سستے داموں فراہم کرنے کا بندو بست نہیں کیا گیا۔ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرپشن کا حجم 323۔ ارب سے تجاوز کر رہا ہے جو سابقہ برسوں کی نسبت کہیں زیادہ ہے، قرضوں اور کرپشن کا حجم آخری حدوں تک جا پہنچا ہے۔
Post New Comment