افغانستان اور پاکستان میں القاعدہ سے نبٹنے کے لئے مکمل توجہ دیں گے: اوباما

واشنگٹن (چودھری افتخار) امریکی صدر بارک اوباما نے عراق سے فوجی انخلاءکے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب ہماری مکمل توجہ افغانستان اور پاکستان میں القاعدہ سے نبٹنے پر ہوگی۔ نارتھ کیرولینا میں ایک اڈے پر فوجیوں سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ہمیں افغانستان اور پاکستان میں ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے جس کے پیش نظر ہم اپنی تمام تر توجہ اس چیلنج کا مقابلہ کرنے پر دیں گے۔ انہوں نے اپنی نشری تقریر میں انہوں نے کہا کہ ہمیں افغانستان اور پاکستان میں ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے جس کے پیش نظر ہم اپنی تمام تر توجہ اس چیلنج کا مقابلہ کرنے پر دیں گے۔ انہوں نے اپنی نشری تقریر میں کہا کہ ہم ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنے کیلئے حکمت عملی بنا رہے ہیں جس میں امریکی طاقت کے تمام عناصر کو بروئے کار لایا جائیگا۔ ہم اسرائیل اور عالم عرب کے درمیان پائیدار امن کے قیام کی کوششیں بھی کررہے ہیں۔ اوباما نے ایک انٹرویو میں کہا کہ افغانستان میں مزید فوجیں بھیجنے کے باوجود امریکہ وہاں طویل مدت تک فوج رکھنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ افغانستان میں قابض فوج کے ساتھ روا رکھے جانیوالے سلوک کے حوالے سے ایک طویل تاریخ ہے اور ہمیں اپنی حکمت عملی وضع کرتے وقت اس نکتے کو ذہن میں رکھنا چاہئے۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ افغانستان میں فوج کی موجودگی کا بنیادی مقصد امریکی عوام کو محفوظ رکھنا ہے۔ تاہم انہوں نے افغانستان سے امریکی فوج کے مکمل انخلاءکا ٹائم ٹیبل دینے سے انکار کیا۔