حجاج کرام نے منیٰ میں شیطان کو کنکریاں ماریں اور قربانی کی

مکہ مکرمہ (مبشر اقبال لون استادانوالہ سے) 25 لاکھ سے زیادہ فرزندان اسلام 10 ذی الحجہ کو مزدلفہ سے منیٰ پہنچ گئے۔ انہوں نے منیٰ پہنچ کر جمرہ عقبہ یعنی بڑے شیطان کو کنکریاں ماریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجة الوداع میں ایسا ہی کیا تھا۔ اکثریت نے سر کے بال منڈوائے اور بعض نے بال ترشوانے پر اکتفا کیا۔ ہزاروں حاجیوں نے قربانی کی اور بڑی تعداد میں حجاج کرام نے طواف افاضہ بھی کیا۔ گورنر مکہ مکرمہ اور مرکزی حج کمیٹی کے سربراہ شہزادہ خالد الفیصل بن عبدالعزیز آل سعود نے کہا کہ الحمد اللہ حاجی حضرات عرفات سے مزدلفہ آئے اور وہاں انہوں نے رات کا قیام سکون و اطمینان سے کیا۔ پھر صبح سویرے ہی سے منیٰ آنا شروع ہوگئے تھے۔ حاجیوں کے سارے قافلے اوّل وقت ہی میں منیٰ آگئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ خادم حرمین شریفین\\\' ولی عہد اور نائب ثانی کی ہدایات کے مطابق تمام انتظامات کئے گئے۔ انہوں نے تمام منتظمین کی حج خدمات کو سراہا اور مبارکباد دی۔ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے حج قافلوں کے انتظامات کی نگرانی کی جا رہی تھی۔ صحت\\\' خوراک\\\' پانی\\\' مواصلات اور آگہی دینے والے اداروں کے اہلکاروں نے حاجیوں کی خدمت بڑھ چڑھ کر کی۔ بعض حاجی صبح سویرے بڑے شیطان کو کنکریاں مار کر حرم شریف آگئے تھے اور انہوں نے فجر اور عیدالاضحی کی نماز وہیں ادا کی۔ حاجیوں سے حرم شریف کے داخلی و خارجی صحن\\\' زیریں اور بالائی منزلیں بھری ہوئی تھیں۔ طواف افاضہ بھی کیا گیا۔ حاجی 11\\\' 12 اور بعض 13 کو بھی تینوں شیطانوں کو کنکریاں ماریں گے۔