نامکمل الیکشن کمشن کے باوجود نواز شریف کیخلاف ریفرنسز کا جائزہ لیا جا سکتا ہے

اسلام آباد (قاضی بلال) الیکشن کمیشن اس وقت سیاسی طورپر شدید دباﺅ کا شکار ہے ۔ذرائع کے مطابق کمیشن کی عدم تشکیل کے باوجود چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ سردار محمد رضا خان عوامی نمائندگی ایکٹ کی سیکشن 42/A کے تحت میاں محمد نواز شریف کیخلاف پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کی جانب سے دائر کئے جانے والے ریفرنسز کا جائزہ لے سکتے ہیں ، بہرصورت حتمی فیصلہ سپریم کورٹ ہی کو کرنا ہوگا۔ اثاثوں کی تفصیلات کا جائزہ لینے کیلئے عوامی نمائندہ ایکٹ کی سیکشن 42/A میں واضح طور پر چیف الیکشن کمشنر کو مخاطب کیا گیا ہے اگر اثاثوں کی تفصیلات چیف الیکشن کمشنر کے پاس جمع ہو سکتے ہیں تو وہ اسکا جائزہ بھی لے سکتے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق سیاسی جماعتوں خاص طور پر پی ٹی آئی اور پی پی پی کی جانب سے دائر ریفرنسز میں ثبوت کا جائزہ چیف الیکشن کمشنر خود لے سکتے ہیں مگر اثاثوں کی تحقیقات کا اختیار الیکشن کمشن کے پاس نہیں ہے۔ اس حوالے سے چیف الیکشن کمشنر اس معاملہ کو عوامی نمائندگی ایکٹ بیاسی کے تحت مقدمہ درج کروانے کیلئے معاملہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو بھیج سکتے ہیں۔ اس حوالے سے سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کا موقف ہے کہ غلط اثاثے جمع کرانے والوں کو ہمیشہ سپریم کورٹ ہی نے نااہل قرار دیا ہے۔
الیکشن کمشن