ٹی او آر کمیٹی‘ نوازشریف کے نام کا اخراج پس پردہ رابطوں کا نتیجہ تھا

اسلام آباد (محمد نواز رضا/ وقائع نگار خصوصی) پانامہ پیپرز لیکس کی تحقیقات کے عدالتی کمشن کے ٹی او آر تیار کرنے والی پارلیمانی کمیٹی کے پہلے روز کے اجلاس میں وزیراعظم نوازشریف کے نام کے اخراج پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اتفاق رائے پس پردہ رابطوں کے نتیجہ میں ہوا ہے۔اجلاس میں 2 سے دستبردار ہونے کی پیشکش پر حکومتی ارکان کے چہرے کھل اٹھے۔ ذرائع کے مطابق پانامہ پیپرز لیکس میں وزیراعظم نوازشریف کا براہ راست نام نہیں اس لئے ان کا نام خارج کردیا جائے گا جبکہ اپوزیشن سعودی عرب سے وزیراعظم نوازشریف کو ملنے والے تحائف کے بارے میں بھی سوال نہیں کرے گی۔ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار کے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران کے درمیان بالواسطہ رابطے موجود ہیں جبکہ دوسری طرف فضل الرحمان‘ پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے سربراہ آصف زرداری سے ملاقات کرکے پیپلز پارٹی کو قدرے نرم طرز عمل اختیار کرنے پر آمادہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت ”کچھ لو اور کچھ دو“ کے فارمولہ کے مطابق متفقہ طور پر ٹی او آر تیار کرنا چاہتی ہے۔ اس مقصد کے لئے اپوزیشن کے متعدد نکات کو ٹی او آر میں شامل کرنے پرآمادہ ہوجائے گی۔ذرائع کے مطابق حکومت اور اپوزیشن پانامہ پیپرز لیکس میں آنے والے ناموں کا معاملہ احتساب کمشن کے حوالے کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔
رابطوں کا نتیجہ