ملا اختر کی ہلاکت‘ پاکستان نے 4 ملکی میکنزم سے کنارہ کشی کا عندیہ دیدیا

اسلام آباد (سہیل عبدالناصر) پاکستان نے عندیہ دے دیا ہے کہ وہ بلوچستان میں امریکہ کے ڈرون حملہ اور افغانستان میں امن عمل کے تسلسل کو نقصان پہنچانے کے خلاف احتجاج کے طور پر چار ملکی میکنزم سے کنارہ کشی اختیار کر سکتا ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان ، افغانستان ، امریکہ اور چین اس چار ملکی میکنزم کا حصہ ہیں جس کا مقصد افغان طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کر کے انہیں مذاکرات کی میز پر بٹھانا ہے۔ اس ضمن میں جمعرات کے روز سے دفتر خارجہ میں غیر ملکی سفیروں کو بریفنگ دینے کا ایک سلسلہ شروع کیا گیا ہے جس میں انہیں بلوچستان میں امریکہ کے ڈرون حملہ ، ملا اختر منصور کی ہلاکت اور افغانستان میںامن عمل پر اس کے مرتب ہونے والی منفی اثرات کے بارے میں پاکستان کی اطلاعات اور مﺅقف سے آگاہ کیا گیا۔ جمعرات کے روز اس سلسلہ کی پہلی بریفنگ کے دوران سعودی عرب، ترکی ، چین ، امارات سمیت متعدد دیگر ملکوں کے سفراءکو سیکرٹری خارجہ اعزاز چودھری نے بتایا کہ کس طرح چار ملکی میکنزم کے تحت مذاکراتی کوششوں کو یکے بعد دیگرے ناکام بنایا گیا اور اب ملا اختر منصور کو ہلاک کر کے ایک جانب ڈرون حملوں کی ریڈ لائن عبور کی گئی تو دوسری جانب امن عمل کے امکانات کو با لکل تباہ کر دیا گیا ہے۔ اس ضمن میں حوالہ کے طور پر طالبان کے نئے امیر ملا ہیبت اللہ کی طرف سے بات چیت کو مسترد کرنے کے اعلان کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ ایک سفارتی ذریعہ کے مطابق پاکستان اس صورتحال سے سخت مایوس ہے اور سفراءکو عندیہ دیا گیا ہے کہ چار ملکی میکنزم کو جان بوجھ کا ناکام بنا گیا ہے اور اب اس میکنزم کی افادیت مشکوک ہونے کے بعد اس پراسس سے نکل سکتا ہے۔ دفتر خارجہ کے ذرائع کے مطابق آئندہ دنوں میں یوروپی یونین ، جاپان اور دوسرے ملکوں کے سفیروں کو اس موضوع پر بریفنگ دی جائے گی۔
عندیہ