بھارت کو نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت دی تو پاکستان کو مرضی کرنے سے کیسے روک سکتے ہیں : امریکی سینیٹر

واشنگٹن (این این آئی) امریکی سینیٹر ایڈ مارکی نے خبردار کیا ہے نیوکلیئر سپلائرز گروپ (این ایس جی) میں بھارت کی شمولیت سے جنوبی ایشیا میں ایک نہ ختم ہونے والی ایٹمی دوڑ کا آغاز ہوجائےگا۔ سینیٹر مارکی نے جنوبی ایشیا کے لیے امریکا کی اسسٹنٹ سیکرٹری نشا بسوال کو خبردار کرتے ہوئے کہا جو کچھ آپ کر رہے ہیں اس سے ایک ایسا ماحول پیدا ہوجائےگا جو کبھی نہ ختم ہونے والے ایک سائیکل کو جنم دےگا جس کے بعد پھر جنگی ایٹمی ہتھیاروں سمیت دیگر جوہری ہتھیار تیار کیے جائیں گے۔ امریکہ ¾ بھارت تعلقات کے حوالے سے سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کی سماعت کے دوران سینیٹر مارکی نے امریکی عہدیداران کو یاد دلایا اوباما انتظامیہ کی بھارت کو این ایس جی میں شمولیت میں مدد دینا خطرناک اور غیر ضروری ہے۔ بھارت کو دی جانے والی ان مراعات سے پاکستان بھی اپنی جوہری صلاحیت میں اضافہ کرے گا جو ایک بہت خطرناک رجحان ہے، خاص طور پر ا±س وقت جبکہ ہم جوہری ہتھیاروں کے غیر ریاستی عناصر کے ہاتھوں میں جانے کے حوالے سے کافی فکرمند ہیں۔سینیٹر مارکی نے کہا بھارت این ایس جی کی رکنیت حاصل کرلیتا ہے تو وہ واحد حکومت ہوگی جو نیوکلیئر نان پرولیفریشن ٹریٹی (این پی ٹی) کا حصہ نہیں ہوگی۔ اس موقع پر اسسٹنٹ سیکرٹری بسوال نے کہا صدر اوباما نے یہ یقین دلایا ہے بھارت شرائط پر پورا اترتا ہے اور این ایس جی میں شمولیت کےلئے تیار ہے تاہم سینیٹر مارکی نے ا±ن کی اس بات سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ این ایس جی کی شرائط کو واضح طور پر پڑھنے سے اس منطقی انجام پر پہنچا جاسکتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا ہم بھارت کو رعایت دے رہے ہیں تو ہم پاکستان کو اپنی مرضی کرنے سے کس طرح سے روک سکتے ہیں؟۔ آن لائن کے مطابق سینیٹر ایڈورڈ ایڈ مارکی نے بھارت کو نیوکلئیر سپلائر گروپ کی رکنیت دینے کی مخالفت کر دی۔ انہوں نے کہا بھارت این ایس جی میں شمولیت کی شرائط پر پورا نہیں اترتا۔ امریکی سینٹ فارن ریلیشن کمیٹی کے اجلاس میں انہوں نے کمیٹی کو بتایا بھارت کی نیوکلئیر سپلائرگروپ میں شرکت سے خطے میں نئی ایٹمی دوڑ شروع ہو سکتی ہے جبکہ بھارت کو این ایس جی کا رکن بنانے کا مطلب ایک نئی ایٹمی جنگ کو ہوا دینا ہے۔ انہوں نے کہا بھارت کو پہلے ہی نیوکلیئر معاملات میں چھوٹ دی جا چکی ہے تاہم بھارت کو رکنیت ملنے پر پاکستان اپنے ایٹمی ہتھیار فرنٹ لائن پر لا سکتا ہے۔
امریکی سینٹ کمیٹی