صوبائی اسمبلی نے پنجاب ڈرگز فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی بلز کی منظوری دیدی

لاہور (خصوصی رپورٹر/خصوصی نامہ نگار/کامرس رپورٹر) پنجاب اسمبلی نے ترمیمی مسودات قوانین دی پنجاب ڈرگز اور فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کی منظوری دیدی جبکہ مسودہ قانون پولٹری پروڈکشن پنجاب 2016ایوان میں پیش کر دیا گیا جسے قائمہ کمیٹی کے سپرد کر کے دو ماہ میں رپورٹ طلب کر لی گئی، سرکاری کارروائی کے دوران اپوزیشن نے دو مرتبہ کورم کی نشاندہی کی تاہم حکومت کی پیشگی منصوبہ بندی کے باعث مطلوبہ تعداد پوری کر لی گئی، سپیکر نے سی پی آر کو چیک کا درجہ دینے کے بارے میں سوال کو کمیٹی کے سپرد کردیا، ایوان کو بتایا گیا ہے کہ مسیحیوں کی شادیوں کی رجسٹریشن کےلئے نادرا کو تمام اضلاع میں اپنا سرور بنانے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ پی ٹی آئی کی اقلیتی رکن شنیلہ روت کے سوال کے جواب میں صوبائی وزیر خلیل طاہر سندھو نے بتایا کہ پیدائش، شادیاں، طلاق اور اموات کی مذہب کی تفریق کے بغیر یونین کونسلوں میں رجسٹریشن ہوتی ہے جہاں تک نادرا میں مسیحیوں کی شادیوں کی رجسٹریشن نہ ہونے کا سوال ہے تو یہ درست ہے۔ مسیحیوں میں بعض لوگ متعلقہ تعلیم اور تجربہ نہ ہونے کے باعث رجسٹر لے کر جعلی نکاح کر رہے تھے اور اس اقدام کی روک تھام کے لئے پادریوں کی لسٹیں مانگی گئی ہیں۔ اس تناظر میں کئی ایف آئی آرز کا بھی اندراج کیا گیا ہے جنہیں ایوان میں پیش کر دیا جائے گا۔ شنیلہ روت نے کہا کہ اقلیتی امور سے متعلقہ قائمہ کمیٹی نہ ہونے کی وجہ سے مسائل حل نہیں ہو رہے، سپیکر نے کہا کہ یہ معاملہ محکمہ قانون کو بھیجا ہوا ہے۔ صوبائی وزیر ملک تنویر اسلم اعوان نے ایوان کو بتایا کہ تمام منصوبوں کے بنائے جانے کے دوران اور تکمیل پر معیار جانچنے کےلئے ان کا نہ صرف تھرڈ پارٹی آڈٹ بلکہ دوہری، تہری مانیٹرنگ ہوتی ہے۔ ا مجد علی جاوید نے سوال اٹھایا کہ جس سڑک کی دس سال لائف لائن ہے وہ پانچ سال میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی ہے۔ کیا اسی طرح لوٹ مار چلتی رہے گی، یہاں لوگ کمیشن لے کر گھروں کو چلے جاتے ہیں۔ سپیکر نے کہا کہ سب انسان ایک جیسے نہیں اور آپ سب کو ایک ہی لائن میں کھڑا کر دیتے ہیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کسی بھی شاہراہ کو بنائے جانے کے بعد محکمے کی ایک سال ذمہ داری ہوتی ہے اور اس وقت تک متعلقہ کنٹریکٹر کی گارنٹی محفوظ رکھی جاتی ہے۔ سپیکر نے جونہی سرکاری کارروائی کا آغاز کیا تو پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی فائزہ ملک نے کورم کی نشاندہی کر دی اور تعداد پوری نہ ہونے پر پانچ منٹ کےلئے گھنٹیاں بجائی گئیں۔ اس دوران ڈپٹی سپیکر نے چیئر سنبھال لی۔ پانچ منٹ بعد کورم پورا ہونے پر اجلاس کی دوبارہ کارروائی کا آغاز کیا گیا۔ مسودہ قانون (ترمیم) فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی لاہور2015ءایوان میں پیش کئے جانے کے دوران تحریک انصاف کے رکن اسمبلی آصف محمود نے پھر کورم کی نشاندہی کی اور تعداد پوری نہ ہونے پر پانچ منٹ کےلئے گھنٹیاں بجائی گئیں۔ دوسرے بل میں اپوزیشن کی تمام ترامیم کثرت رائے سے مسترد کر کے اس کی بھی منظوری دیدی گئی۔ ایجنڈا مکمل ہونے کے بعد ڈپٹی سپیکر نے اجلاس غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کر دیا۔
پنجاب اسمبلی