بچے کی بازیابی، اہلکاروں کو بے بسی کی وجہ سے اعلیٰ پولیس افسروں کو بلانا پڑتا ہے: ہائیکورٹ

لاہور (وقائع نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے آٹھ ماہ کے بچے کی بازیابی کے لئے دائر درخواست میں قرار دیا ہے کہ نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ پولیس اہلکاروں کی بے بسی کی وجہ سے پولیس کے اعلیٰ افسروں کو عدالتوں میں بلانا پڑتا ہے۔ عدالت پولیس کی مصروفیات سے آگاہ ہے مگر ماں کی بے بسی کے سامنے بڑے سے بڑے کام کی کوئی حیثیت نہیں۔ پولیس ہر صورت بچے کو بازیاب کرا کے عدالت میں پیش کرے۔ جسٹس انوار الاحق نے کیس کی سماعت کی۔ درخواست گزار فروا حسین نے عدالت کو بتایا کہ اسکے خاوند نے خود کو کنوارا ظاہر کر کے اس سے شادی کی۔ بیٹے کی پیدائش کے آٹھ ماہ بعد اس سے بچہ چھینا اور گھر سے نکال دیا۔ بچے کی والدہ نے عدالت میں ہاتھ جوڑ کر روتے ہوئے استدعا کی کہ اس کے بچے کو بازیاب کرا کے اس کے حوالے کیا جائے۔ عدالتی حکم پر ڈی پی او نے عدالت میں پیش ہو کر بتایا کہ بچے کی بازیابی کے لئے پولیس کی متعدد ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ عدالت نے مزید سماعت آٹھ جون تک ملتوی کرتے ہوئے بچہ برآمد کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت/ بچہ بازیاب