کراچی میں رنگ و نسل کی بنیاد پر لوگوں کو مارا جا رہا ہے: مصطفی کمال

کراچی (نوائے وقت رپورٹ) پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی پاکستان کا بزنس مرکز ہے۔ ملک کو ریونیو دیتا ہے۔ میں نے اولڈ سبزی منڈی سے براہ راست لیاری کو پانی کی لائن دی۔ آج لیاری کے پانی کی لائن پر ہائیڈرینٹ بنا دئے گئے۔ میں نے کچرا اٹھانے کے لیے ایک ارب 10 کروڑ روپے کی گاڑیاں دیں۔ میرے دور میں 90 فیصد کچرا اٹھ رہا تھا۔ آج گاڑیوں کے پرزے بیچ کر کھا گئے۔ زیرو فنڈ میں 6 ارب 38 کروڑ روپے چھوڑ کر گیا، صاف کر دیا گیا۔ کراچی کو 2008ءسے 2013ءتک لوٹا گیا۔ عباسی شہید ہسپتال میں 38 وینٹی لیٹر مشینیں لگائیں۔ اب مریضوں کو ایک گولی تک نہیں ملتی۔ کراچی کو رنگ و نسل کی بنیاد پر لوگوں کو مارا جا رہا ہے۔ شیعہ، سنی، پٹھان اور مہاجر کو مارنے والا ایک شخص ہے۔ حکومت کراچی کو لاوارث نہ سمجھے ہم اس کے وارث ہیں۔ اب کوئی رحمن ملک آ کر ہمیں لالی پاپ نہیں دے سکتا۔ وارننگ دے رہا ہوں قبلہ درست کرو ورنہ عید کے بعد اپنے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ دشمن کا مقصد پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی کو توڑنا ہے۔ بسیں چلانے کے لیے سٹی گورنمنٹ سے 3 کروڑ زر تلافی دینی تھی۔ بس کا کرایہ 12 روپے تھا اور کمپیوٹرائزڈ بوتھ سے مسافر خود ٹکٹ لینے تھے۔ کراچی لٹ گیا تو سمجھو پاکستان لٹ گیا۔ متحدہ کے قائد ”را“ سے فنڈنگ لیتے تھے۔ اس بات کا ثبوت موجود ہیں آپ کے شہر پر ایجنٹ نے قبضہ کر رکھا ہے۔
مصطفی کمال