پی آئی اے کے بعض طیاروں کی عمریں زیادہ، طویل سفر نہیں کر سکتے: بی بی سی

اسلام آباد (بی بی سی) اس وقت پی آئی اے کے پاس 38 طیارے ہیں۔ پی آئی اے کے ’بوڑھے‘ فلیٹ کے بارے میں بات تو ہر اس شخص کی منہ سے سنی ہے جس سے اس کمپنی کے بارے میں بات ہوئی مگر آپ حیران ہوں گے یہ بات بالکل غلط ہے۔ پی آئی اے کے پاس تقریباً ہمیشہ سے ہی اکثر جدید اور تکنیکی لحاظ سے بہترین طیارے رہے ہیں۔ پی آئی اے کے بیڑے میں لانگ ہال یا دور کی مسافت کی پروازوں کے لیے بوئنگ کے جدید 777 اور ایئر بس کے قدرے پرانے اے 310 طیارے ہیں۔ پی آئی اے کے پاس چھ اے 310 طیارے ہیں جن کی عمریں 22 سال سے 24 سال کے درمیان ہیں اور یہ اس وقت ائرلائن کے زیرِاستعمال سب سے پرانے طیارے ہیں جو ملک کے اندر اور مشرق بعید کی پروازوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ بوئنگ 777 طیاروں کی عمر 10 سے 12 سال کے درمیان ہے جس کی ایک قسم لانگ رینج کا سب سے پہلا طیارہ پی آئی اے نے حاصل کیا تھا۔ اس سے قبل پی آئی اے بوئنگ کے 747 طیارے استعمال کرتی تھی جنہیں موجودہ حکومت نے ریٹائر کر دیا ہے۔ پی آئی اے کے تمام طیارے دنیا میں کہیں بھی پرواز کر سکتے ہیں اور یہ بات بالکل بے بنیاد ہے۔ ان باتوں کی بنیاد میں پی آئی اے کے نو طیاروں کے علاوہ باقی طیاروں پر 2007 میں لگنے والی پابندی ہے تاہم جن طیاروں پر 2007 میں پابندی عائد کی گئی تھی وہ اب ریٹائر کیے جا چکے ہیں۔ 2014 میں پی آئی اے کے طیاروں پر یورپی یونین کے ممالک میں کارگو لے جانے کے حوالے سے جو پابندی عائد کی گئی تھی وہ بھی اٹھائی جا چکی ہے۔ پی آئی اے کے مطابق اس وقت فضائی کمپنی کے پاس 14771 ملازمین ہیں اور یہ تعداد فی طیارہ 388 ملازم بنتی ہے۔ اس وقت پی آئی اے کے پاس 38 طیارے ہیں جن میں آنے والے چند ہفتوں میں مزید اضافہ ہو گا جس سے یہ تعداد مزید کم ہو جائے گی۔ دنیا میں ملازمین کی فی طیارہ اچھی شرح سو سے ڈیڑھ سو کے لگ بھگ ہے مگر اس کا انحصار کمپنی کی پروازوں اور اس کے براہِ راست اور ذیلی کمپنیوں کے ملازمین کی تعداد اور ملازمین پر خرچ کی جانے والی رقم پر ہوتا ہے جسے عموماً نظر انداز کیا جاتا ہے۔ جہاں پی آئی اے کے طیاروں اور اس کی وجہ سے پروازوں کی تعداد ماضی میں کم ہوتی گئی وہیں غیر ملکی کمپنیوں کو دھڑا دھڑ پاکستان میں تھوک کے حساب سے لینڈنگ رائٹس دیے گئے۔
پی آئی اے طیارے/بی بی سی