شہر اقبال میں دو بھائیوں کے وحشیانہ قتل پر تارکین وطن کے سر شرم سے جھک گئے

گزشتہ چند عشروں میں پاکستانیوں کی نئی نسل کو بلا جواز فتوے دینے والے مولویوں، ڈگریاں فروخت کرنے والے اساتذہ اور منافق معاشرے نے اس انتہا تک جنونی بنا دیا ہے کہ طالبان تو ایک طر ف چنگیز خان بھی ان کی درندگی اور بربریت دیکھ کر شرما جائے۔ سیالکوٹ میں دو نوجوان بھائیوں کا سفاکانہ اور وحشیانہ قتل پاکستانیوں کے منہ پر طمانچہ ہے۔ بربریت اور درندگی کا گھنٹوں جاری رہنے والا یہ خونی کھیل تو طالبان نے بھی کبھی نہیں کھیلا جسے سینکڑوں مردہ ضمیر تماشبینوں کی طرح دیکھتے رہے‘ سینکڑوں بے حس لوگ اس خونی کھیل سے ایسے محظوظ ہوتے رہے جیسے وہ کوئی کرکٹ میچ دیکھ رہے ہوں۔
ظلم و تشدد اور بربریت کا وہ مظاہرہ کہ اس واقعے کی ویڈیو دیکھ کر پتھر دل بھی رو پڑتے ہیں لیکن افسوس کہ سپریم کورٹ کے از خد نوٹس لینے تک نہ ہی کسی کو اس بربریت اور سفاکی کی خبر ملی اور نہ ہی کسی نے اس درندگی کا نوٹس لیا۔ شاید ہم بحثیت قوم اخلاقی گراوٹ کی آخری حد بھی پار کر چکے ہیں۔ درندگی بربریت اور سفاکی کی اس داستان نے فرانس اور دنیا بھر میں تارکین وطن کو افسردہ کر دیا ہے۔ کمیونٹی کے تمام مکتبہ فکر نے اس کی سخت مذمت کی ہے۔ پی پی پی کے منیر احمد ملک‘ ن لیگ کے یوسف خان اور میاں محمد حنیف‘ ق لیگ کے چودھری اکرم وسن، منہاج القرآن کے عبدالجبار بٹ، علامہ حسن میر قادری، کلچرل ایسوسی ایشن کے شیخ جمیل احمد،چودھری محمد رفیق، رانا محمود، قاری فاروق احمد، چودھری ظفر تارڑ، عبدالرﺅف ، چودھری ناظم حسین، سبط مزمل، قیصر مشتاق، حاجی حمید اللہ، راﺅ خلیل خان نے حکومت نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ قتل کے اس بھیانک واقعہ میں ملوث افراد اور پولیس کے چھوٹے بڑے تمام افسران کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔ کویت میں مقیم پاکستانیوں نے اس واقعہ پر دلی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وحشت اور بربریت کی اس واردات کے باعث، بیرون ملک پاکستانیوں کے سرشرم سے جھک گئے ہیں۔
کویت میں مقیم پاکستان کی سماجی شخصیت بلند اختر نے کہا ہے کہ سیالکوٹ میں منیب بٹ اورحافظ مغیث بٹ کو جس سفاکی سے ہلاک کیاگےا۔ اس بھیانک واقعہ کے بعد و فاقی وزیر داخلہ رحمان ملک اور وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف کو مستعفی ہو جا نا چاہیے تھا محض ڈ ی پی او وقار چوہان کو نظر بند اور ڈی آئی جی ذوالفقار چیمہ کو تبدیل کرکے سپریم کورٹ کی طرف سے قائم کردہ تحقیقات کا مذاق اڑایا گیا ہے۔ بلند اختر نے کہا ہے کہ پنجا ب حکومت اس سانحہ کی تفتیش برادری ازم پر کر رہی ہے اس لئے سانحہ کو کرکٹ میچ کا جھگڑا قرار دیا جارہا ہے اصل حقائق چند دنوں میں سامنے آ جائیں گے۔کوےت میں خیمہ مارکےٹ کے تاجروں احسان احمد وڑائچ ،محمداکرم اور پا مجید نے اس سانحہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کوےت کے صدر ارشدنعیم چوہدری نے کہا کہ واقعہ انقلاب کا آغاز ثابت ہوگا اور تبدیلی ناگریز ہوگئی ہے۔ تحریک انصاف سوگوار خاندان کے غم میں برابر شریک ہے۔ اورحکومت وقت سے مطالبہ کرتی ہے کہ گھناﺅنے جرم کا ارتکاب کرنے والوں کوعبرت کا نشان بنا دے۔ معروف سماجی کارکن شکیل احمد ڈارنے کہاکہ سیالکوٹ میں ہونے والا واقعہ جس میں سرعام دوسگے بھائیوں کو تشدد کرکے قتل کیا گےا اورپولیس تماشہ دیکھتی رہی یہ واقعہ پوری دنیا میں دیکھا گےا اوراوورسیز پاکستانیز کے لئے نہاےت شرمندگی کا باعث ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان میں کوئی قانون نہیں قانون کے رکھوالے اپنی نگرانی میں قتل کرواتے ہیں جس جس نے بھی یہ واقعہ دیکھاہے وہ اشکبارہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ذمہ دار اشخاص کو تحقیق کے بعد سرعام پھانسی دی جائے تاکہ یہ دوسروں کے لئے عبرت کا نشان بن جائیں
پاکستان مسلم لیگ ن کے نائب صدر ملک طالب حسین نے اس افسوس ناک واقعہ کی پُرزور مذمت کرتے ہوئے کہاکہ اس واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے۔ محمد اشرف بشیر احمد نے کہاکہ عام لوگوںکے ساتھ وہاں موجود پولیس اہلکاروں کا رویہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ اگر پولیس مداخلت کرتی تو دونوں نوجوانوں کی جانیں بچ سکتی تھیں۔ مشتاق احمد نے کہاکہ پولیس کی ذمہ داری تھی کہ وہ لوگوں کو منتشرکر کے دونوں لڑکوں کی جان بچاتی مگر پولیس نے اپنی ذمہ داری ادانہ کی ۔ عمران ایوب نے اس واقعہ کی پُرزور مذمت کی ہے ۔ ہارون الرشید ،فرہاد حسین قادری ،محمد شریف میو،محمد جاوید عرف بلا نے اس افسوسناک واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کوتہذیب اور شائستگی سکھائے مگر ریاست کے اہلکاروں کا کردار بھی انتہائی قابل مذمت رہاہے اس واقعہ میں ملوث افراد اورموجود پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔شہر اقبال سیالکوٹ میں معروف مذہبی گھرانے کے دو بے گناہ نوجوانوں کی درندہ نما لوگوں کے ہاتھوں ہلاکت نے سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کے سر شرم سے جھکا دیئے ہیں۔ سیالکوٹ کے معروف تاجر محمد امجد خواجہ کے دو جواں سال بھتیجوں حافظ مغیث بٹ اور محمد منیب بٹ کے بہیمانہ قتل ظلم کی انتہا ہے جس سے یقیناً ہلاکو اور چنگیز کی روحیں بھی شرما گئی ہوں گی۔ ان خیالات کا اظہار انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے امیرمرکزیہ فضیلة الشیخ مولانا عبدالحفیظ مکی، نائب امیر مرکزیہ مولانا ڈاکٹر سعید احمد عنایت اللہ، مولانا اسعد محمود، مولانا عبدالرﺅف ملک، پاکستان کمیونٹی کے رہنماﺅں غلام نبی رحمانی خانپوری الطاف حسین ہاشمی، ملک محمد بشیر، ملک خورشید، محمد رفیق بھٹی ، خالد محمود، قاری جاوید، میر محمد طور اور اوورسیز پاکستانی جرنلسٹس فورم سعودی عرب کے مرکزی نائب صدر مبشر اقبال لون استادانوالہ نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ کے موضع بٹر میں ہونے والے انسانیت سوز واقعہ نے ارض حرمین شریفین میں مقیم پاکستانیوں کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔ دونوں نیک سیرت معصوم بچوں کووحشیانہ تشدد کے ذریعے موت کے گھاٹ اتار دیا اور ان کی لاشوں کی بے حرمتی کی گئی اس بد ترین سفاکیت اور درندگی کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے مقتولین کے ورثاءسے دلی اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ انہیں انپے فضل و کرم سے صبر جمیل عطا کرے۔ ان رہنماﺅں نے وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا ہے جنہوں نے اس المناک واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے سخت کارروائی کے احکامات جاری کئے ہیں۔##