’’گوئم مُشکل‘‘ کی تقریب رونمائی

’’گوئم مُشکل‘‘ کی تقریب رونمائی

اظہار بیان یا بات کہنے کے لئے مختلف طریقے استعمال کئے جاتے ہیں۔ کچھ لوگ بہ نفیس نفیس بات کر کے اپنا مدعا بیان کر لیتے ہیں، کچھ اپنی بات کو کسی کے ذریعے پہنچا کر اپنا مقصد حاصل کر لیتے ہیں جبکہ کچھ لوگ ایسی بات جو کہنا مشکل ہو جو اسے لکھ کر دوسروں تک پہنچا دیتے ہیں۔ ’’گویم مشکل‘‘ کے عنوان سے لکھی گئی کتاب کی تقریب رونمائی گذشتہ دنوں دبئی میں ہوئی۔ یہ کتاب متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی صحافی سلیم کاشمیری نے لکھی ہے۔ صحافی ہونے کے وجہ سے سلیم کاشمیری براہ راست بات کر کے بھی اپنی بات کہہ لیتے ہیں جبکہ کچھ باتیں جو وہ براہ راست کہہ نہ سکے انہوں نے ’’گویم مشکل‘‘ میں تحریر کر کے کہہ دی ہیں۔ سلیم کاشمیری صحافی ہونے کے ساتھ ادیب بھی ہیں اور اب تک ان کی چار کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں جن میں ’’امارات کے لیل و نہار‘‘، ’’سفری کہانی‘‘، بے نظیر بھٹو کیوں شہید ہوئیں‘‘ اور حالیہ کتاب ’’گویم مشکل‘‘ شامل ہے۔ جبکہ ان کی مزید دو تصانیف ’’بلاول‘‘ اور ’’گلوبل ویلج‘‘ کے عنوان سے زیرطبع ہیں۔ ’’گویم مشکل‘‘ کی تقریب رونمائی کے موقع پر قونصلیٹ آف پاکستان دوبئی کے پریس قونصلر سردار عبدالواحد خان، پاسپورٹ قونصلر عبدالقیوم خوگانی، پروفیسر ظہیر بدر، ملک مجاہد علی، سجاد اعوان، سید عباس، صحافی اشفاق احد، حافظ  زاہد علی، شیخ پرویز، سلیمان جاذب منظور بھٹی اور سہیل خاور کے علاوہ پاکستان جرنلسٹ فورم کے دیگر ارکان بھی موجود تھے۔ اس موقع پر مقررین نے خطاب کے دوران سلیم کاشمیری کی کتاب ’’گویم مشکل‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مصنف نے انتہائی جرات اور بہادری سے کام لیتے ہوئے کتاب ہذا میں ایسے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھایا ہے کہ جن کے بارے واقعی ایک عام آدمی کے لئے کہنا مشکل تھا۔ خاص طور پر قومی ائر لائن پی آئی اے کی بربادی کی داستان سلیم کاشمیری نے بڑے اچھے انداز میں بیان کی ہے۔ مقررین نے سلیم کاشمیری کو کتاب لکھنے اور اس کی رونمائی پر مبارکباد پیش کی جبکہ مقامی بزنس مین عبدالرحیم نے ’’گویم مشکل‘‘ کے متعدد نسخے اپنی طرف سے حاضرین مجلس میں تقسیم کئے۔ آخر میں سلیم کاشمیری نے اپنی حوصلہ افزائی کرنے والوں اور تقریب کے سپانسر مجاہد علی اور تقریب کے منتظمین سہیل اور شیخ پرویز کا دلی شکریہ ادا کیا۔