کویت میں مسیحی بھائیوں سے اظہار یک جہتی

کویت میں مسیحی بھائیوں سے اظہار یک جہتی

پشاورمیں یکے بعددیگربم دھماکوں نہ صرف پاکستان میں رہنے والوں کے دل ہلاکررکھ دئیے بلکہ بیرون ممالک میں بسنے والے پاکستانیوں اورمسلمانوں کے بھی دل دہل کررہ گئے کویت میں پاکستانیوں نے اپنے پاکستانی مسیحی بھائیوں سے اظہار یک جہتی کرتے ہوئے پاکستانی کمیونٹی کی سرکردہ شخصیات نے انہیں یقین دلایا کہ مصیبت کی اس گھڑی میں وہ ان کے غم میںبرابرکے شریک ہیں۔کویت میں پاکستانی سفیرسیدابرارحسین نے چرچزآف پاکستان میں جاکر پاکستانی مسیحی برادری سے اظہار افسوس کیا اورانہیں یقین دلایا کہ پاکستانی حکومت جہاں دوسری قوموں کی حفاظت ذمہ داری نبھارہی ہے وہی مسیحی برادری کو بھی مکمل تحفظ فراہم کرنے میں اپنی تمام توانیاں بروئے کارلارہی ہے دہشت گردوں کو کوئی مذہب اورقومیت نہیں وہ صرف اورصرف دہشت پھیلا کر عوام میں بی چینی پھلاناچاہتے ہیں مسیحی برادری پر حملہ کرنے کا مقصد پاکستان کو دنیا میں بدنام کرنے کے علاوہ اورکچھ نہیں کیونکہ 40ہزارسے زائدپاکستانی مسلمان دہشت گردی کانشانہ بن چکے ہیں لیکن دہشتگردوں کی کاروائی سے پاکستانی کے حوصلے پست نہیں ہوئے کوئی ہماری نیت پر شک نہ کرے ہم مسلمان ہیں جن کا مذہب سلامتی کی علامت ہے ہمارے پیارے نبی حضرت محمدؐ صرف مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ پوری دُنیا کے لئے رحمت اللعالمین بن کر آئے وہ محسن انسانیت ہیں ہمارا مذہب امن وسلامتی کا درس دیتا ہے۔ چر چز آف پاکستان کے انچارج پروفیسرممتازشاہ کے علاوہ پاکستان کمیونٹی کے چوہدری غلام شبیر،محمدارشد جنجوعہ ،ارشدنعیم چوہدری ،شکیل احمد ڈار نے بھی شرکت کی ۔ملک دشمن عناصر ہمارے خلاف گہری سازشوں میں مصروف ہیں عبادت گاہوں پر خودکش حملے اپنے ہی ہم وطنوں کے خلاف نفرت پھیلانے کی ناکام کوشش ہے ،ان خیالات کا اظہار حافظ محمد شبیر (نمائندہ)اوورسیزپاکستائینزمشاورتی کونسل (OPAC) نے کیا اور کہاکہ ہم سانحہ پشاور چرچ میں ہونے والے خود کُش دھماکوں کی پُر زور مذمت کرتے ہیں، ہم پاکستانی مسیحی برادری کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہیں،وطنِ عزیز میں بسنے والے تما م افراد ایک گھرانے کی مانندہیں۔ حکومت سے اپیل ہے کہ اس سانحہ میں ملوث افراد کو جلد از جلد گرفتار کر کے کیفرکردار تک پہچایاجائے۔ 
کویت میں مسیحی برادری کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لئے الفروانیہ کویت میں رانا منیراحمد(صدرPNO )کے زیر اہتمام پاکستان ،پشاور چرچ میں ہونے والے خود کُش دھماکوں پرزور مذمت کی۔کانفرنس کے محرک اول معروف سیاسی اورسماجی شخصیت حاجی افضل نور تھے۔تعزیتی کانفرنس میں مسلم کمیونٹی کے ساتھ ساتھ ایک بہت بڑی تعداد میں مسیحی برادری نے بھی شرکت کی۔خواتین کے علاوہ پاکستانی کمیونٹی کے تمام نمائندہ احباب، ایسوسی ایشن، گرؤپ، فورمز اور سینٹرز نے بھر پور شرکت کی ۔ 
کانفرنس میں تلاوت کلام ِ پاک کے بعد جعفر صمدانی نے تعزیتی کانفرنس کی غرض و غائت کی اہمیت واضحِ کی۔
ہم پشاور حملے کی پُر زور مذمت کرتے ہیں۔ہم اپنے پاکستانی بہن ،بھائیوں کے ساتھ اظہار ِ تعزیت کرتے ہیںہم اپنے پاکستانی بہن ،بھائیوں کے ساتھ اظہاریکجہتی کرتے ہیں۔ہم ملزمان کو بعد از تفتیش منطقی انجام تک پہنچانے کی درخواست کرتے ہیں۔ہمیں آپس میں محبت و اخوت بھائی چارے اور ہم آہنگی کو فروغ دینا چاہیے اور مزید واضح ِ کیاکہ آج کی تعزیتی کانفرنس جس کا انعقاد رانا منیر احمد نے کیاہے۔وہ کسی ذاتی حیثیت ،گرؤپ،فورم،ایسوسی ایشن یا سنیٹر کی طرف سے نہیںبلکہ صرف اور صرف پاکستان کمیونٹی کے زیر اہتمام کیاہے تاکہ مجموعی طورپرملّی،قومی ،حب الوطنی،اتحاد ،یگا نگت ،اور اخوت کی عکاسی ہو۔اور رانا منیر احمدنے حق ادا کر دیا ہے کہ اِس نے ہم سب کواور سفارت خانہ پاکستان کوایک چھت تلے جمع کیا اور اپنے مسیحی بھائیوں کے تقریب کرنے کیلئے اکٹھا کیاہے۔
صاحبزادہ محمد رضوان عارف نے جماعت اہلسنت کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ اسلام امن کا دین ہے۔جس میں کسی بھی قسم کی دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں۔ہم اس کی بھر پور مذمت کرتے ہیں ۔
ڈاکٹر جہانزیب نے عوامی نیشنل سنٹر کویت کی نمائندگی کرتے ہوئے پشاور واقع کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ ہمیں اتحاد کر کے اس سازش کا مقابلہ کرنے کی سعی کرنی چاہیے۔زبیر شرفی نے پاکستان مسلم لیگ (ن) لیبر ونگ اوورسیز کویت کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا خودکش دھماکے پاکستان کے خلاف گہری سازش ہے،ہم اپنی حکومت سے اپیل نہیں مطالبہ کرتے ہیں پاکستان کے آئین میں ایسی ترامیم کی جائے جس میں پاکستان میں موجود تمام عبادت گاہوں میں خود کش حملہ یا اس قسم کی کاروائی کرنے والے افراد کو سرِعام سزا دی جائے۔شاہد طفیل ایڈووکیٹ نے منہاج القرآن اوررانا اعجاز سہیل ایڈووکیٹ KPFA) (کی نمائندگی کرتے ہوئے پشاور واقع کی بھر پور مذمت کی ۔رجب خان عباسی نے کہا ہمیں قانون کی پاسداری کو یقینی بنانا چاہے۔ارشد جنجوعہ سماجی کارکن نے پشاور خود کش دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے اپنے مسیحی بہن ،بھائیوں کے ساتھ تقریب کی اور اظہار یکجہتی کی ۔ملک اشتیاق سماجی سرگرم کارکن نے پشاور بم دھماکے کی شدید مذمت کی اور مسیحی بہن ،بھائیوں سے اظہار یکجہتی کی ۔ غلام حیدر شیخ نے پیپلز پارٹی شہید بھٹو کی نمائندگی کرتے ہوئے پشاور واقع کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی۔عتیق عدنان صدر پاکستان پیپلز پارٹی کویت نے پشاور واقع کی مذمت کرتے ہوئے ،پشاور دھماکے کو پاکستان کے خلاف گہری سازش قرار دیا ، یاسمین مظفر معروف ادیبہ اورغزالہ بانو نے کہا کہ ہم سب ایک ہیں۔،ہمیں اس سازش کو سمجھ اور عقل کے ساتھ مقابلہ کرناچاہے۔۔پاسٹرجان جیمز نے کہا کہ میں اور ہم سب محب الوطن پاکستانی ہیں ہم بہت زیادہ مشکور ہیں رانا منیر احمد اور حاجی محمد افضل نورکے کہ جنہوں نے اس تعزیتی اجلاس کا اہتمام کیا ہمارے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ۔انہوں نے کہا پاکستان کے ساتھ محب الوطنی کا تقاضا ہے کہ ہم اتحاد کا مظاہرہ کریں اور پاکستان کے خلاف ہونے والی اس سازش کو بے نقاب کرتے ہوئے مقابلہ کریں۔ہم سب پاکستانی ہیں ہم خدا اور یسوع مسیحی کے حضور دُعا کرتے ہیںکہ وہ ہمیں طاقت اور ہمت بخشے کہ ہم اس حب الوطنی کے تقاضوں کو پورا کریں۔سینئر پاسٹر جسٹن بی رام نے بائبل کی روشنی میں کہا کہ حکومتوں کے تابعدار رہنا ہی اچھے مسیحوں کا کردار ہے۔
حاجی افضل نور،سینئر سماجی اور سیاسی راہنما صدر پاکستان پیپلز کلب کویت نے کہا کہ میں مشکور ہوں سفیر اسلامی جمہوریہ پاکستان سید ابرار حسین کاجنہوں نے تعزیتی اجلاس کی سرپرستی قبول فرمائی اور رانا منیر احمد کا جو آج کے تعزیتی اجلاس کا مہتمم ہے جس نے مختصرترین وقت میںپاکستانی کمیونٹی کو مکمل طور پر اکٹھا کیااور تعزیتی اجلاس صرف اور صرف تقاضا حب الوطنی،اخوت اور بھائی چارے کے فروغ کی بہترین مثال بنادیا ہے میں مشکور ہوں پاسٹر بی رام کا اور پاسٹر جان جیمز کااور تمام مسیح بہن، بھایئوں کا جو آج کی تقریب میں شریک ہوئے۔ہم اپنے پاکستانی مسیحی بہن ،بھایئوں کے ساتھ اس سانحہ پر تعزیت کرتے ہیں اور دکھ کی اس گھڑی میں ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیںہم ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیںاور یقین دلاتے ہیں ہم ان کے دکھ ،درد،الم اور غم میں برابر کے شریک ہیں۔میں سفارت خانہ پاکستان کا بھی بے حد ممنون ہوںجو تشریف لائے اور ہمارے مسیحی بہن بھایئوں کو اس درد و الم کی کھڑی میں حوصلہ دیا۔ 
سفیرپاکستان سید ابرار حسین نے کہاکہ پاکستانی مسیحی بہن ،بھایئوں کی قربانیوں کی داستان کوئی چھوٹی نہیں ہے جسٹس کارنلس جیسے درویش،محب وطن شخص نے اس کو چار چاند لگا دیئے جس کے فیصلے آج بھی ہماری عدالتی تاریخ کا سہرا ہیں۔مسیحی تعلیمی ادارے اپنے معیار کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ہم باہمی اتحاد اور محبتوں کے ساتھ پاکستان کو عظیم سے عظیم تر بنائیں گے ۔آخر میں انہوں نے کہا کہ رانا منیر احمد نے حب الوطنی کا تقاضا نبھا دیا۔دُعاتعزیتی اجلاس کے آخر میں وفات پانے والوں کے لواحقین کیلئے صبر اور پاکستان میں امن و سلامتی کیلئے سینئر پاسٹر جسٹن بی رام نے دُعا کرائی۔