بلوچستان زلزلہ سے متاثرہ

بلوچستان زلزلہ سے متاثرہ

پاکستان ویلفیئر طائف کی جانب سے طائف کی معروف سماجی شخصیت مقصود اقبال بیگ کی رہائش گاہ پر ایک بہت بڑی تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں تمام مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والی پاکستانی کمیونٹی نے بھرپور شرکت کی۔ تقریب کا مقصد بلوچستان میں آنے والے زلزلے سے متاثرہ پاکستانی بھائیوں سے ہمدرد اور مالی مدد کرنا تھا۔ جدہ کی معروف سماجی اور کاروباری شخصیت انجینئر چودھری شفقت محمود بطور مہمان خصوصی مدعو تھے۔ جن کا طائف کمیونٹی نے والہانہ استقبال کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چودھری شفقت محمود نے کہا کہ صحابہ کرامؓ  نے حضورؐ پاک سے سوال کیا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات کو کون سا بندہ پسند ہے تو آپؐ نے ارشاد فرمایا جو لوگوں کے دکھ درد میں شریک ہوتا ہو۔ اپنے مسلمان بھائی کی تکلیف کو اپنی تکلیف اور اس کی خوشی کو اپنی خوشی مانتا ہے۔ ایسا بندہ خدا کے نزدیک زیادہ محبوب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا تعلق کسی بھی فرقے یا پارٹی سے ہو لیکن ہم سب کا ایک دوسرے کے ساتھ انسانیت کا رشتہ ضرور ہے۔ ہماری اجتماعی کوشش ہونی چاہئے کہ ہم انسانیت کی قدروں کو نہ بھولیں۔ انہوں نے ایک تاریخی واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ ایک شخص جو نماز روزے پر توجہ نہیں دیتا تھا لیکن وہ لوگوں کے دکھ درد میں ضرور شریک ہوتا تھا ایک دن اس نے ایک فرشتے کو کچھ لکھتے ہوئے دیکھا۔ اس نے اس سے سوال کیا کہ تم کون ہو اور کیا لکھ رہے ہو؟  جواب ملا کہ  میں فرشتہ ہوں اور ان لوگوں کی لسٹ بنا رہا ہوں جن کواللہ تعالیٰ  پسند کرتے ہیں۔ اس نے فرشتہ سے سوال کیا کہ کیا میرا نام اس میں شامل ہے۔ فرشتے نے جواب دیا نہیں۔ دوسرے دن پھر اس شخصت نے فرشتے کو فہرست بناتے ہوئے دیکھا اس نے پھر وہی سوال کیا تو فرشتے نے جواب دیا کہ آج میں ان لوگوں کی فہرست بنا رہا ہوں جنہیں اللہ پسند کرتا ہے۔ جب اس شخص نے دیکھا تو اس کا نام لسٹ میں سب سے اوپر تھا۔ یعنی اللہ پاک کی نظروں میں وہ ٹاپ آف دی لسٹ تھا۔ اس طرح ہمیں بھی چاہئے کہ ہم اللہ کی خوشنودی کے لئے فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ ایک دوسرے کے دکھ درد میں خلوص دل سے شریک ہوں۔ اسی میں ہماری بھلائی ہے۔
 انہوں نے مزید بتایا کہ جدہ میں ہم نے ایک فلاحی انجمن بنا رکھی ہے۔ لیکن میں چاہتا ہوں جتنے بزنس مین ہیں ان کو چاہئے کہ ہر شہر میں ایسی تنظیمیں بنائیں اور پاکستانی قوم کی مدد کریں۔ آج کی یہ تقریب بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ انہوں نے تقریب کے میزبان ویلفیئر کے چیئرمین ڈاکٹر خورشید انور اور جنرل سیکرٹری حافظ ذاکر  جذبی کا اتنا اچھا پروگرام منعقد کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان ویلفیئر طائف کے چیئرمین ڈاکٹر خورشید انور نے حضرت موسیٰ ؑ کے دور کا ایک واقعہ سنایا۔ ایک شخص کو ہمیشہ رزق کی کمی رہتی تھی اس نے ایک دن حضرت موسیٰ سے عرض کیا کہ آپؑ اللہ سے میرے لئے رزق کی سفارش کریں کہ وہ مجھے میرے حصے کا رزق ایک ساتھ ہی عطا کر دیں۔ اللہ پاک نے یہ دُعا قبول فرمائی اور اس کے حصے کا رزق اسے ایک ساتھ ہی عطا فرما دیا۔ اس شخص نے وہ سارا رزق غریب اور نادار لوگوں میں تقسیم کر دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ شخص مالا مال ہو گیا۔ حضرت موسیٰؑ نے جب اس کو اس قدر امیر دیکھا تو خدا سے عرض کیا کہ اے میرے خدا یہ کیا ماجرہ ہے کہ کل جو تنگ دست تھا آج اس کے لنگر چل رہے ہیں تو اللہ پاک نے فرمایا کہ اس شخص نے میرے ساتھ بزنس کیا ہے کیونکہ میرا وعدہ ہے کہ میں ایک کے گیارہ عطا کرتا ہوں۔ اس شخص نے اپنے حصے کا تمام رزق میرے ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیا کیونکہ اس نے میری راہ میں دیا ہے اس طرح میں اسے گیارہ گنا کے ساتھ لوٹا رہا ہوں۔ اس لئے ہم کو چاہئے کہ ہم اپنے زلزلہ زدگان بھائیوں کی مدد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ اس مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیں۔ انہوں نے 2005ء کے زلزلہ کے کچھ آنکھوں دیکھے واقعات بھی بیان کئے جنہیں سن کر تمام سامعین اشک بار ہو گئے۔ حافظ ذاکر جذبی نے بھی حدیث و قرآن کی روشنی میں چند ایک مسائل و فضائل بیان کئے۔ اس تقریب میں راجہ محمد ریاض نے بھی خطاب کیا۔ طائف میں منعقد ہونے والی اس زلزلہ زدگان کی امداد کے لئے تقریب کے سٹیج سیکرٹری انجینئر عبدالرئوف تھے۔ تلاوت قرآن پاک کی سعادت قاری نور الھدیٰ نے حاصل کی۔ خوبصورت آواز میں تلاوت کرنے پر ڈاکٹر خورشید انور نے نورالھدیٰ کو پانچ سو ریال نقد انعام دیا۔ بلوچستان زلزلہ زدگان کی امداد کے لئے اس تقریب میں پاکستانی کمیونٹی کی طرف سے  دو لاکھ چوتیس ہزار روپے اکھٹے ہوئے جبکہ اتنی ہی رقم یعنی دو لاکھ چونتیس ہزار روپے مہمان خصوصی چودھری شفقت محمود نے دی۔ اس طرح کل امدادی رقم چار لاکھ اڑسٹھ ہزار ورپے جمع ہوئی۔ فوری طور پر متاثرین بلوچستان کو روانہ کر دی جائے گی۔ تقریب میں محمد تاج، مرزا ارشد محمود، انجینئر عبدالباسط، پروفیسر عمر خان، فرید اعوان، پروفیسر عابد صدیقی، زاہد چودھری، راجہ محمد ریاض، غلام مصطفی عامر، شبیر ملک، شاہد بٹ کے علاوہ کثیر تعداد کمیونٹی نے شرکت کی۔