امریکی فوج نے خفیہ انٹیلی جنس سرگرمیوں کا دائرہ وسیع کردیا

نیویارک (نمائندہ خصوصی) امریکی فوج نے مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا اور قرون افریقہ کے ملکوں میں خفیہ انٹیلی جنس سرگرمیوں کا دائرہ وسیع کردیا ہے۔ اس حوالے سے حکم نامہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے گزشتہ سال ستمبر میں جاری کیا۔ یہ بات امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔ اس آرڈر میں متعلقہ علاقوں کے دوست اور دشمن ملکوں میں خصوصی خدمات انجام دینے والے دستے بھیجنے کا حکم دیا گیا تھا جن کا مقصد جاسوسی کرنا اور مقامی طاقتوں کے ساتھ تعلقات استوار کرنا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ اوباما انتظامیہ نے خفیہ سرگرمیوں کا دائرہ نامزد جنگی زونوں سے آگے تک پھیلانے کا فیصلہ کرچکی ہے تاہم اس نئے حکم سے ایسی کوششوں کو طویل المدت اور زیادہ منظم بنایا جائیگا۔ اس فیصلے کا مقصد یہ بھی ہے کہ القاعدہ اور دیگر عسکریت پسند گروپوں کے اندر تک گھس کر ان کو منتشر کرکے شکست سے دوچار کردیا جائے اور اس طرح ان کے نیٹ ورکس کو تباہ کیا جاسکے۔ ان کا مقصد یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایسا ماحول پیدا کردیا جائے جن میں امریکی یا مقامی فورسز کی طرف سے ان گروپوں پر حملہ کیلئے سازگار فضا قائم کردی جائے تاہم امریکی محکمہ دفاع کے بعض حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام میں کئی خطرات بھی پنہاں ہیں۔ فوج میں بعض عہدیداروں کا خیال ہے کہ اگر امریکی فوجیوں کو روائتی جنگی کردار کے علاوہ کوئی رول دیدیا گیا تو پکڑے جانے کی صورت میں ان کے ساتھ جاسوسوں والا سلوک کیا جائیگا۔