مسلم کانفرنس کو کمزور کرنے کی سازش پر تشویش

شفیلڈ :میگزین رپورٹ......
وزیراعظم آزاد کشمیر کے پولیٹیکل کوارڈی نیٹر راجہ یوسف بندوروی نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں مسلم کانفرنس کی موجودگی میں مسلم لیگ (ن) کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے۔ مسلم کانفرنس کو کمزور کرنے کی سازشوں کے پیچھے تقسیم کشمیر کا کوئی خفیہ ایجنڈا کارفرما نظر آتا ہے۔ پاکستانی حساس اداروں اور محب وطن لوگوں نے سر جوڑ کر فوری کوئی حل نہ نکالا تو آزاد کشمیر میں مسلم کانفرنس کے کمزور ہونے سے پاکستانی سرحدوں کو غیر محفوظ کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم کانفرنس کشمیریوں کی سواد اعظم جماعت ہے آزمائشوں سے نکلنے کے بعد یہ پھر پٹڑی پر آ جائے اسے کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن پاکستانیت اور الحاق پاکستان کو کمزور کرنے کی سازشوں میں جو لوگ ملوث ہیں وہ اپنے مشن میں کامیاب ہو جائیں گے اور تقسیم کشمیر کی راہیں ہموار ہونا شروع ہو گئیں تو یہ سب کے لئے نقصان کا باعث ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی آزادی اور اس کے تشخص کی حفاظت کے لئے پاکستان نے تین جنگیں لڑی ہیں۔ لاکھوں فرزندان توحید شہادت کے مراتب سے گزر چکے ہیں اور آج بھی پاکستان بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جس طرح ہراول دستے کا کردار ادا کر رہا ہے ساری ریاضتیں اور قربانیاں رائیگاں ہوں گی۔ راجہ یوسف بندوروی نے کہا کہ کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ لگا کر مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان نے جس خلوص حب الوطنی اور پاکستانیت کا مظاہرہ کیا تھا یہی قائداعظم کی روح کے مطابق سوچ تھی لیکن آزاد کشمیر میں مسلم لیگ کی ثانی جماعت مسلم کانفرنس کے مقابلے میں مسلم لیگ (ن) کا قیام تمام پرخلوص کاوشوں کی دھجیاں بکھیرنے کے زمرے میں آتا ہے۔ راجہ یوسف بندوروی نے کشمیری تارکین وطن پر اتحاد و اتفاق قائم رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اپنے اپنے حلقوں میں کشمیر کے حقِ خود ارادیت کی حمایت میں انگریز کمیونٹی اور ممبران پارلیمنٹ پر تیار کریں اور کوشش کریں کہ زیادہ سے زیادہ سازشیں بے نقاب ہو کر دم توڑ جائیں اور کشمیری اپنے پیدائشی حق کے حصول میں کامیاب ہوں۔ دریں اثناء برطانیہ کے دورے پر آئے ڈڈیال کی سیاسی و سماجی شخصیت پیپلز پارٹی کے رہنما ماموں چودھری محمد مشتاق نے کہا ہے کہ سیاست کے اندر سیاسی قدریں ختم ہو کر رہ گئی ہیں۔ نظریاتی اور قومی سوچ دفن ہو چکی ہے۔ نفسا نفسی کا عالم ہے اور ہر سیاستدان اپنی ذاتی تسکین کے لئے سرگرداں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سیاستدان اپنے اندر قومی سوچ کو اجاگر کر لیں تو مسئلہ کشمیر کا حل قریب ترین آ سکتا ہے۔ آج ہزاروں کی تعداد میں کشمیری بھارتی افواج کی درندگی کا شکار ہو کر زندگی اور موت کی کشمکش میں لگے ہوئے اقوام عالم انتہائی بے حسی کا شکار ہو کر ذاتی مفادات کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کشمیر کے اندر تیل کے ذخائر موجود ہوتے مسئلہ کشمیر عالمی توجہ کا مرکز ہوتا۔ چودھری مشتاق ماموں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو یورپی ایوانوں سمیت امریکہ تک رسائی دینے میں بیرسٹر سلطان محمود چودھری نے جس جانفشانی اور دوڑ دھوپ سے جاری رکھا۔ اگر حکومتی سطح پر کاوشوں میں تیزی پیدا کی جاتی تو بڑے خوبصورت نتائج نکلنے کی توقعات پیدا کی جا سکتی تھیں لیکن قومی خزانے کو بے دریغ لوٹنا اور مال غنیمت سمجھ کر اپنی تجوریاں بھرنے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے حکمران بھول چکے ہیں کہ ان پر اللہ کی جانب سے بھی کچھ ذمہ داریاں عائد ہیں اور اللہ کی اس گرفت سے بچنے کی کوشش کی جانی چاہئے۔ چودھری مشتاق نے بیرسٹر سلطان محمود چودھری کی پی پی پی میں شمولیت کو بہت بڑا بریک تھرو قرار دیا اور کہا کہ ان کے آنے سے بڑے اثرات نمودار ہوں گے۔ وہ گذشتہ روز چودھری آفتاب احمد، چودھری انتخاب، چودھری شباب، چودھری اخلاق، محمد عماد اور چودھری غلام رسول کی رہائش گاہ پر اخباری نمائندگان سے گفتگو کر رہے تھے۔ ماموں مشتاق چودھری اس ہفتے پاکستان روانہ ہو رہے ہیں۔